Articles by "مبین قریشی"

مافوق ہستیوں ،ارواح یا معبودان باطلہ کی رضا جوئ کے لئے انسانی جان کی قربانیوں کی رسم ( Human sacrifice rituals) معلوم تاریخ کی ایک معروف معلوم حقیقت ہے۔ مشرق بعید، یورپ، چائنہ ، تبت، برصغیر، افریقہ اور مشرق وسطی نیز دنیا کا کوئ خطہ ایسا نہیں جہاں ایسی رسوم تاریخ میں نا ملتی ہوں۔ اس غیر فطری عبادت کو چونکہ انسانی ضمیر اور مصلحین کے رد عمل کا ہمیشہ ہی سامنا رہا ہے اسلئے بتدریج اس میں کمی واقع ہوتے ہوتے اب نابود ہوچکی لیکن اسکے باوجود بھی موجودہ صدی میں بھی اسطرح کے کیسیز برازیل ، چلی، میکسیکو، یو ایس، بنگلہ دیش ، انڈیا، نیپال اور افریقہ وغیرہ میں خبروں کی زینت بن چکے ہیں ۔ اس رسم کی اس بھی ذیادہ قبیح شکل پہلوٹھی اولاد کی قربانی کی رسم ( First child sacrifice rituals) تھی ۔ یہ رسم بھی تاریخ میں دنیا بھر مثلا قدیم کولمبین میکسیکو، جنوبی امریکہ کے مختلف خطوں ، مایا تہذیب، شمالی پیرو اور بالویریا وغیرہ کے علاوہ مشرق وسطی میں بابل سے مصر تک کے علاقوں میں ملتی ہیں ۔ عہدنامہ قدیم کی کتب اور یہودی لٹریچر بھی اس رسم سے متعلق بہت کچھ بتاتا ہے۔ حضرت سلیمان کی حکومت دولخت ہونے کے بعد شمالی ریاست نے بعل (Bull) کی پوجا شروع کردی تھی انکی مختلف رسومات میں سے ایک یہ رسم بھی موجود تھی جو انھوں نے غیر قوموں سے اپنائ تھی۔ بنی اسرائیل سے پہلے یروشلم میں جہنم نامی جگہ پر مزکورہ بالا دونوں رسوم آگ میں جلا کر ادا کی جاتی تھیں۔ اسی طرح اسرائیلیوں کے پڑوس کے بنی آمون میں بھی یہ رسم پائ جاتی تھی۔ بلکہ ساتویں صدی قبل مسیح میں میکاہ نبی بھی اپنے صحیفے میں بھی اپنے پہلوٹھے کو اپنے گناہ کے عوض اور جان کی خطاء کے بدلے میں قربانی کی رسم کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ اسلام سے پہلے کچھ نجدی بدوی قبائل میں جہاں بیٹی پیدا ہونے پر اسے درگور کردیا جاتا تھا وہیں بچوں کو معبودوں کی خوشنودی کے لئے بھینٹ چڑھانے کی رسم بھی کچھ استھانوں پر موجود تھی(سورہ انعام ۱۳۷)۔ بلکہ تاریخی روایات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ غالبا رسول اللہ کے والد بھی کسی اسی طرح کی ملتی جلتی رسم کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے سو انٹوں کے فدے کے عوض بچے تھے۔

اس پس منظر کی روشنی میں تورات کے پہلوٹھوں سے متعلق قانون سازی کو اگر دیکھا جاے تو یہ باور ہوتا ہے کہ یہ قوانین خود ساختہ نہیں بلکہ یہ سدزریعہ کے قوانین تھے جو پہلوٹھے سے متعلق مزکورہ رسم کے مقابلے میں دئے گئے ہونگے۔ اور سد زریعہ کے قوانین چونکہ ہمیشہ حالات کیساتھ مشروط ہوتے ہیں اسلئے شرک کے خلاف اسلامی انقلاب کے بعد اور تمدن میں تبدیلی کی وجہ سے خداے علیم و خبیر کے علم کے مطابق انکی ضرورت موجود نہ رہنی تھی اسلئے منسوخ کردئے گئے۔ 
مزکورہ پس منظر کیساتھ ہی حضرت اسمعیٰل کی قربانی کے واقعے کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔ عبادات کے زمرے میں جتنی بھی رسوم ہمیشہ سے اسلام میں پائ جاتی رہی ہیں وہ دراصل شرک ہی کا ردعمل نظر آتی ہیں۔ یعنی جو کچھ بھی باطل معبودوں کی حمیت و خوشنودی کے لئے کیا جاتا تھا اس پر اللہ کا حق تھا جو کسی اور کے لئے بطور عبادت جائز نہ ہوسکتا تھا اسے اللہ کے لئے خاص کردیا جاتا رہا۔ اسلئے اس واقعے میں بھی بتایا گیا کہ اس غیر فطری رسم کے مقابل قربانی کی فطری عبادت رکھی گئ ہے۔ مقابل کی اس رسم کے عظیم پیمانے پر ادا ہونے کے لئے تورات میں قربانیوں کی عبادات کو دیکھنا چاہئے۔ ہمارے ہاں بھی بچے کی پیدائش پر جانوروں کی قربانی کو مستحب رکھا گیا۔ اسکے علاوہ ہر سال حج کے موقعہ پر قربانی کو عظیم درجے پر رائج کیا گیا۔ اب اسمیں ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ حضرت ابراھیم کو پہلوٹھے ( حضرت اسمعیٰل ) کی قربانی کا حکم دینے میں بھلا کیا حکمت تھی؟ ۔ حضرت ابراھیم سے متعلق قرآن سے جو بات بالکل واضح ہے وہ یہ کہ وہ اپنے دور اور علاقے میں اکیلے ہی ایک امت تھے جس سے ایک بہت بڑی امت نے جنم لینا تھا اسلئے عموما انھیں احکامات کی حکمت تجرباتی انداز میں سمجھانے کا طریقہ خدا نے اختیار کیا۔ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ باطل معبودوں کی حمیت و حمایت کے لئے ادا ہونے والی اس رسم سے متعلق حضرت ابراھیم کو لگاتار روی (رویاء) کروائ جارہی تھیں۔ اور پھر بالاخر اسکی شناحت سے تجرباتی طور پر گزارنے کے لئے بھی اور باطل معبودوں کے پوجاریوں کے اپنے معبودوں سے حمیت و حمایت کے مقابلے میں اسوقت کی دنیا میں موجود عام عرف کے مقابل حضرت ابراھیم و اسمعیٰل کے اپنے اس ذھنی خلجان کہ یہ اپنے معبود سے محبت کے اظہار کا آخری درجہ اسلام میں کیوں روا نہ رکھا گیا کا تجربہ کروایا۔ ایسا تجربہ یقینا ان دونوں کے لئے خدا سے محبت کا ایک بہت بڑا امتحان بھی بنا۔ اسلئے ان دنوں چلتی روی میں پھر ایک رویاء میں حضرت ابراھیم کو بھی دکھایا گیا کہ وہ بھی اپنے پہلوٹھے بیٹے کی قربانی اپنے سچے معبود کی نذر کرنے کی حالت میں ہیں ۔ صبح جب والد نے اس رویاء کی تعبیر اپنے بیٹے کے سامنے رکھی تو انھوں نے بھی کہا کہ یابت افعل ماتومر ستجدونی انشااللہ من الصابرین( بابا جانی آپ وہ کیجئے جسکا آپکو حکم دیا گیا ، مجھے آپ خدا کی رضا پر ڈٹ جانے والوں میں سے پائیں گے)۔ لہذا دونوں اس حکم پر راضی برضا ہوے اور حضرت اسمعیٰل نے سجدے کی حالت میں گردن کٹوانے کے لئے ماتھا زمین پر ٹیک دیا۔ حضرت ابراھیم جونہی آگے بڑھے تو نداء ایزدی آگئ کہ یہاں تک ہی آپ دونوں باپ بیٹا جو کچھ کرچکے ہیں بس اتنا ہی مطلوب تھا۔ رویاء سے مقصود کے مطابق آپکے جذبوں کی صداقت اعمال لکھنے والے فرشتوں کے سامنے بھی آچکی ہے۔ آپ بیٹے کی بجاے جانور کی ہی قربانی اس نیت سے دیں کہ کبھی اپنی جان خدا کے راستے میں دینا پڑی تو مجھے معلوم ہے کہ جیس کیفیت سے یہ جانور گزرا ہے مجھے بھی ان کیفیات سے ہی گزرنا ہوگا مگر پھر بھی میں کہتا ہوں کہ گزروں گا۔

غالبا ۲۰۱۰ کی ایک شام میں نے ٹی وی اٹھا کر کوڑے کے ڈرم میں پھینک دیا تھااور فیملی کے ہر ممبر کو لیپ ٹاپ دلوادیا تھا تاکہ وہ یوٹیوب وغیرہ پر اپنی پسند کے پروگرامز دیکھ سکا کریں ۔ اس دن سے آج تک پھر ٹی وی کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ ٹی وی پھیکنے کی بڑی وجہ جو مجھے محسوس ہوئ تھی وہ میرا یہ احساس تھا کہ نیوز چینلز مجھے اور میری اولاد کو بے حس اور نفسیاتی مریض بنیادیں گے۔ منفی خبریں اور منفی تجزیات مجھ پر بری طرح اثر کررہے تھے۔ جیسے حالت جنگ میں رہنے والوں کے لئے گولیوں کی تڑتڑاھٹ رفتہ رفتہ معمول بن جاتی ہے ویسے ہی منفی خبریں میرے لئے معمول کی خبریں بننے لگی تھیں ۔ مجھے یہ بھی خوف تھا کہ منفی تبصرے اور خبریں کہیں میری اولاد کے مزاج میں بطور معروف کے سرایت نہ کر جائیں۔ میں بھی ان تبصروں کو سچ سمجھ کر سارا سارا دن انھی کے گرد سوچتے اور دوستوں سے بحث کرتے گزارنے لگا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ مجھے خود سے احساس ہونا شروع ہوا کہ میرا مزاج تلخ ہونا شروع ہوگیا ہے۔مجھے اپنے مزاج میں بہت سی تبدیلیاں محسوس ہونا شروع ہوئیں۔ پھر ایک دن میں نے خود کو اور اپنی معصوم اولاد کو ان پیشہ ور تبصرہ نگاروں کی ذھن سازی سے نکالنے کا فیصلہ کرکے ٹی وی اٹھا کر پھینکھ دیا۔ گھر میں فیملی کیساتھ کچھ عرصے کے لئے صرف اور صرف کامیڈی پروگرامز دیکھنا شروع کردئیے تاکہ مزاج سے تلخی کو تھوڑا کم کیا جاسکے۔ 
اب فیس بک پر بھی ہر طرف بس سیاسی تجزیہ نگاری ہی نظر آتی ہے۔ ہر دوسری ووال پر ایک ڈاکٹر شاہد مسعود ، زید حامد ، نجم سیٹھی، جاوید چوہدری ، طلعت حسین، حامد میر یا پھر حسن نثار بیٹھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ تو ہر خبر سے کسی نا کسی طرح منفی پہلو دریافت کرکے اجاگر کرنے کی حد تک نفسیاتی مریض تک محسوس ہوتے ہیں ۔ جو زرا ان سے کم پڑھے لکھے ہیں وہ سارا دن کہیں نہ کہیں سے کچلی ہوئ لاشوں کی تصاویر، ایکسیڈنٹس کی ویڈیوز ، تشدد سے بھرپور مناظر کے کلپس ڈھونڈ ڈھونڈ کر لگاتے رہتے ہیں ۔ یہ سب کچھ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ٹی وی ڈراموں کے مقابل پنجابی اسٹیج شوز کی طرح فیس بک بھی نیوز ٹی وی کے مقابل ایک لچر قسم کا میڈیم بن گیا ہے جس پر اناڑی اپنا اپنا ہاتھ سیدھا کررہے ہیں۔ میں کئ دنوں سے اب فیس بک چھوڑنے اور کوئ نیا مشغلہ تلاش کرنے سے متعلق سوچ رہا ہوں۔

پچھلی صدی میں عیسائ مشنریوں کیساتھ مناظروں کے دور میں تورات و انجیل کو ردعمل کی نفسیات نے ہمارے ہاتھوں بے جا رگڑا لگوایا۔ اس رگڑے کے دوران ہمارے ہاں ایسی بے اعتنائ بھی سامنے آی جو ان کتب سے متعلق نہ ہمارے قرون اولی کے زاویہ نگاہ اور نہ ہی قرآن مقدس سے میل کھاتی تھی۔ میرے خیال سے جیسے روایات کو اپنا علمی سرمایہ سمجھ کر انکی قرآن و سنت سے تطبیق پر ہمارے اہل علم نے کام کیا ہے ویسا کام ان کتب سے متعلق نہ ہوا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جیسے احادیث و آثار ہمارا علمی سرمایہ تھا ویسے ہی یہ کتب (بالخصوص عہد نامہ قدیم) بھی ہماری کتب اور علuمی سرمایہ تھا۔ ان کتب کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے والوں پر واضح ہے کہ قرآن نے ان کتب سے متعلق ہمارے جیسا بے اعتنائ کا رویہ نہیں اپنایا بلکہ قرآن کو ان پر مہیمن ٹھہرا کر انھیں نور اور ہدایت کا منبع کہا ہے۔ قرآن نے اسفار کی غلطیوں کو بھی عوامی انداز سے انھیں کٹہرے میں کھڑے کئے بغیر گویا اہل الذکر علماء کی توجہ انکی جانب مبذول کروائ۔ ان کتب میں اکثر غلطیاں یا تو تراجم سے تراجم نے پیدا کی ہیں یا پھر ان تاریخی روایات نے جو بعد ازاں نزولی سیاق و سباق کی وضاحت کی لئے تورات کیساتھ جوڑ دی گئیں۔ قرآن نے جسطرح تقریباً پوری کتاب تکوین کو ہی کہیں نہ کہیں مختلف انداز سے اپنا موضوع بنایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب قرآن کے نزول سے قبل بھی تورات کا حصہ ہی سمجھی جاتی تھی۔ میرے مطالعے کی حد تک قرآن نے سب سے ذیادہ اصلاح اسی کتاب کی ہے۔ 
کتاب تکوین کا پہلا باب ہماری کائنات کا چھ ادوار سے گزر کر موجودہ تکمیل تک پہنچنے سے متعلق ہے۔ قرآن کو بھی اصولی طور پر اس خبر سے کوئ اختلاف نہیں بلکہ تائید کیساتھ بتاتا ہے کہ یہ کائنات تخلیق کہ چھ ادوار سے ہی گزری ہے۔ کتاب تکوین کے چھ ادوار کی ترتیب درج ذیل ہے۔ 
۱: پہلا دور : اگر بیگ بینگ سے ادوار کے قیاسات کو سامنے رکھا جاے ۹-۱۰ ارب سالوں پر مشتمل سب سے لمبا دور۔ اس دور میں زمین بھی باقی کروں کی طرح وجود میں تو آچکی تھی مگر انھی کی مانند بیابان تھی۔ اس دور کے خاتمے تک زمین بجھ چکی تھی اور سورج کے گرد گردش کرنے سے دن رات کا نظام بن چکا تھا۔ گیسیں بھی ٹھنڈی ہوکر اسکی سطح کو مکمل طور پر پانی سے ڈھانک چکی تھیں۔ 
۲: دوسرا دور؛ یہ دور غالبا پہلے دور سے دس گنا چھوٹا تھا۔ اس دور میں زمین کے گرد فضاء (atmosphere) اور واٹر سائیکل پیدا کیا گیا۔ 
۳: تیسرا دور: یہ دور دوسرے دور سے بھی چھوٹا تھا جسمیں واٹر سائیکل اور زمین کے اندرون میں جیالوجیکل تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑ اور خشکی نمودار ہوئ۔ تکوین کے مطابق یہ دور نباتات کی ابتداء ہوجانے تک محیط تھا۔ 
۴: چوتھا دور؛ آج تک ڈسکوریز کے نتیجے میں سب سے ذیادہ تنقید تکوین کے اس مزکورہ دور پر ہوتی ہے۔ کیونکہ اس دور میں خدا نے کہا ( کلمہ کن) خدا نے سورج چاند تارے بناے تاکہ موسموں اور دنوں میں تبدیلی واقع ہو۔ تنقید یہ ہے کہ یہ سب کچھ تو پہلے دور میں ہوچکا اور اگر نہ ہوا ہوتا تو مزکورہ تین ادوار ہی وقوع پزیر نہ ہوسکتے ۔ تورات کے علماء اس اعتراض کا یہ جواب دیتے ہیں کہ سائنس کو ابھی بہت سفر کرنا باقی ہے۔ تاہم قرآن سورہ حم سجدہ کی آیت ۹ سے ۱۳ میں اسکا جواب یونہہ دیتا ہے کہ زمین پر حیات کی ابتداء اور اسکی ربوبیت کے مطلوب سامان کی تخلیق تو چار ادوار میں ہی ہوئ لیکن ارض و سماء کے اسٹریکچر کا تسویہ دو ادواروں میں ہوا۔ اس بات کا فیصلہ کہ کیا قرآن نے تکوین کے اس دور سے متعلق غلطی کو واضح کیا ہے یا پھر اسی کی وضاحت کی ہے کا فیصلہ جدید سے جدید ڈسکوریز کی بنیاد پر ہی کیا جاے گا۔ اگر تو قرآن تکوین کے اس مبہمدور کی وضاحت کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس چوتھے دور میں ارض و سماء کا پہلے دور کے بعد اب دوسری مرتبہ ایک اور بار تسویہ کرکے اسے اگلے ادوار کے قابل بنایا گیا۔ اسطرح قرآن کے مطابق ارض و سماء کے اسٹریکچر کی تخلیق و تسویہ دو ادوار سے گزرا۔ 
۵: پانچواں دور؛ زندگی نباتات کے دور سے آگے بڑھ کر آبی حیوانات اور اڑنے والے کیڑوں اور پرندوں تک پھیل گی۔ 
۶: چھٹا دور؛ اس دور میں مستقل طور پر خشکی میں رہنے والے حیوانات اور پھر بالاخر انسان وجود میں آے۔ انسان کی ابتداء کیسے ہوئ اسکی وضاحت تکوین کے باب دوم میں ہے جسے قرآن نے بھی متعدد مقامات پر موضوع بناکر اسکی وضاحت و اصلاح کے دونوں کام کئے۔ 
۷: ساتواں دور؛ اس دور میں خدا نے آرام کیا اور اسکو برکت دی۔ یہ جملہ پہلے باب کے خاتمے اور دوسرے باب کی ابتداء کے مابین ہے۔ غالبا ء اس جملے کو کسی نے سبت کے احکامت کے تناظر میں بعد ازاں دونوں ابواب کے مابین گھسیڑا ہے۔ سورہ ق کی آیت پچاس میں قرآن نے اس خود ساختہ ساتویں دور کی غلطی ان الفاظ میں واضح کی ہے؛ 
ولقد خلقنا السموات و الارض وما بینھما فی ستہ ایام، وما مسنا من لغوب۔ 
ہم نے ارض و سماء اور انکے مابین حیات و ربوبیت کا کارخانہ چھ ادوار میں ہی مکمل کیا ہے اور ہمیں کوئ تھکان لاحق نہ ہوئ کہ اسکے بعد ہمیں استراحت کی ضرورت بھی ہوتی۔

درج بالا چھ ادوار کو اصولی طور پر تسلیم کرکے قرآن نے متعدد مقامات پر ان سے متعلق معلومات میں مزید اضافے بھی کیے ہیں مثلا کہ یہ پہلے باہم ایک تھے جنھیں دھماکے سے علیحدہ کیا گیا۔ اسی طرح یہ کہ ابتداء میں یہ محض دخان ( گیسوں کا مجموعہ) تھا وغیرہ وغیرہ۔

تکوین کے پہلے باب سے متعلق پچھلی پوسٹ میں تفصیل آگئ کہ تورات ہماری کائنات کی تخلیق کو کیسے چھے ادوار کے ارتقائ عمل سے گزرتے ہوے موجودہ شکل تک اسکی تکمیل کی وضاحت کرتی ہے۔ چونکہ کائنات کا یہ ارتقاء تورات میں بیان ہوچکا تھا اسلئے قرآن نے ایک آدھ اصلاح اور ایک آدھ وضاحت کیساتھ محض اسکا ذکر کرکے بار بار اس سے استدلال کیا ۔ کائنات کی ارتقائ تخلیق کے برعکس انسانی تخلیق کے معاملے میں سمجھا جاتا ہے کہ شائد تورات نے آدم کا مٹی سے پتلا بناکر اسمیں روح پھونک دینے کا تصور رکھتے ہوے انسانی تخلیق میں ارتقاء کے سائنسی انکشافات کے برعکس کوئ بات بیان کی ہے۔ تکوین باب دوم کی آیت ۷ میں آدم کی تخلیق کا ذکر یونہہ آیا ہے؛

“ خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اسکے نتھتنوں میں زندگی کا دم پھونکا اور آدم ذی روح ہوگیا”۔

تکوین کی اس آیت کو سائنسی انکشافات کے برعکس کہنے کی بجاے انتہائ درجے کا اختصار کہنا چاہئے۔ یا یونہہ کہا جاسکتا ہے کہ تورات کائنات کی ارتقائ تخلیق کی تفصیل تو بیان کرتی ہے مگر انسانی تخلیق میں ارتقاء کے معاملے پر خاموش ہے۔ اسلئے اس معاملے کی تفصیل قرآن نے کردی ہے۔ اگر اوّل الذکر معاملے کی تفصیل بھی تورات نے کردی ہوتی تو شائد قرآن اس معاملے کو بھی اوّل الذکر معاملے کی طرح اختصار سے بطور پہلے سے بتائ ہوئ بات کے طور پر ہی لیتا۔ ایک ہی پہلو (ارتقائ تخلیق) کے دو معاملات پر قرآن و تورات کا یہ انداز( بہت سے ایسے ہی اور مقامات کی طرح )واضح کرتا ہے کہ قرآن دراصل عہد نامہ قدیم و جدید کے بعد اسی خدا کی جانب سے آخری عہدنامہ ہے۔

قرآن کی وضاحت ؛ 
جیسے پچھلی پوسٹ میں واضح کیا کہ کائنات کی ارتقائ تخلیق کے چوتھے دور سے متعلق اشکال کو قرآن نے یہ کہہ کر واضح کیا کہ ارض و سماوات تخلیق و تسوئیے کے لئے دو ادوار کے جوڑے سے گزرے۔ بعینہ قرآن نے واضح کیا ہے کہ انسانی تخلیق بھی اسی زمین پر دو ادوار کے جوڑے سے گزر کر مکمل ہوئ ہے۔ قرآن کے تفاصیل کو کچھ نکات میں دیکھتے ہیں ؛ 
۱؛ کیا انسان کو کسی آسمانی جنت میں پیدا کرکے زمین پر اتارا گیا ؟ 
قرآن سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ قرآن تورات کے مزکورہ بالا بیان کی ہی طرح کہتا ہے کہ ھو الذی انشاکم من الارض۔ اللہ وہ ذات ہی جس نے تمھارا نشو زمین میں سے کیا۔ ایک دوسرے مقام پر سازگار موسم کے آنے پر سازگار زمین سے بیج سے پودوں کے اگنے کی مشابہت کیساتھ اسکو یونہہ بیان کیا ہے کہ وقد خلقکم اطوارا۔ واللہ انبتکم من الارض نباتا۔ اور یقینا اس نے تمھیں مختلف مراحل ( اطوار) سے گزار کر تخلیق کیا ہے اور اس نے تمھاری نسل کو زمین سے اگایا ہے۔ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر اسے مزید یونہہ واضح کیا ہے جیسے پہلی مرتبہ تم اس زمین سے پیدا ہوے اور موت کے بعد اسمیں لوٹا دئے گئے ویسے ہی دوسری مرتبہ بھی تم اسی زمین سے نکالے جاو گے ( منھا خلقنکم و فیھا نعیدکم و منھا نخرجکم تارہ اخری)۔ جیسے پہلی مرتبہ کو زمین سے اگنے والے نباتات سے مشابے بتایا بعینہ دوسری مرتبہ کو الگ سے اسی کو یونہہ بیان کیا کہ واللہ الذی ارسل الریح فتثیر سحابا فتنہ الی بلد میت فاحینا بہ الارض بعد موتھا کذالک النشور۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو بادل بھری ہوائیں مردہ زمین کی جانب ہانکاتے ہوے بھیجتا ہے جو برس کر مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں ایسے ہی تمھارا نشور بھی ہوگا ۔ ایک دوسرے آیت میں یہی بات بیان کرکے فرمایا کہ کذالک الخروج ۔ مردہ لوگوں کا اسی زمین سے زندہ ہوکر خارج ہونا بھی ایسے ہی ہوگا۔ یعنی نباتات کے وہ بیج اور جڑیں یا پھر کیڑے مکوڑوں کے وہ انڈے جو مردہ زمین میں مٹی کیساتھ مٹی ہوچکے ہوتے ہیں وہ کیسے برسوں بعد بھی بارش کیساتھ پھر زندہ ہوجاتے ہیں بعینہ تمھارے اجزاء بھی جو مٹی کیساتھ مٹی ہوچکے ہونگے میں ایک ایسے سیال کی بارش برساؤں گا کہ پہلی مرتبہ کی طرح بغیر ماں کے پیٹ کے تم زمین کے پیٹ سے اگتے چلے جاؤ گے۔

۲: قرآن نے کہاں واضح کیا ہے کہ اس نے انسانی تخلیق کو بھی دو ادوار سے گزار ہے اور ان دو مراحل کی کیا تفصیل بیان کی ہے؟

سورہ سجدہ آیت ۷ سے قرآن نے اسے یونہہ بیان کیا ہے۔ 
وبدا خلق الانسن من طین۔ ثم جعل نسلہ من سللہ من ماء مھین۔ ثم سوہ ونفخ فیہ من روحہ وجعل لکم السمع والابصر والافئدہ۔ 
خدا نے انسان کی تخلیق اوّل کی ابتداء مٹی سے کی ۔ اسکے بعد دوسرے مرحلے میں اسکی نسل کو ایک حقیر سے سیال ( semen) کے خلاصے ( sperm) سے چلا دیا۔ اس دوسرے مرحلے کے بعد بھی اسکا آخری شکل تک لئے تسویہ (alignment) ہوتا رہا اور پھر اسے پہلے سے ممیز تخلیق بنانے لیگ کے لئےاپنی روح ( decree ) اس میں پھونک کر اسمیں حواس و خود شعوری پیدا کردی۔ 
درج بالا آیت میں پہلے مرحلے میں زمین کے پیٹ سے پیدا ہوتے بشر کی نسل میں سے (جس میں تولید کی صلاحیت موجود نہ تھی ) روح پھونکنے کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا گیا اسے آدم کہا گیا ( ان اللہ اصطفی آدم و نوح و ءال ابراھیم و ء آل عمران علی العالمین ۔ آل عمران ۳۳)۔

پہلے مرحلے کی مزید ارتقائ تفصیل ؛ 
جیسے مزکورہ بالا دوسرے مرحلے میں تولید کے عمل کے لئے سللہ من ماء مھین کا لفظ آیا ہے بعینہ پہلے مرحلے کے متعلق قرآن نے واضح کیا کہ اسمیں زمین پر یہ عمل بھی سللہ من طین سے کیا۔ سللہ کسی چیز کے خلاصے یا لب لباب کو کہتے ہیں ۔ انسانی نطفے میں تولیدی مادہ صرف ایک فیصد ہوتا ہے جبکہ باقی مواد اس ایک فیصد تولیدی مادے ( جو بزات خود کروڑوں تولیدی جرثوموں پر مشتمل ہوتا ہے) کی حفاظت و نشونما کے لئے ہوتا ہے۔ یہ تولیدی جرثومہ زمین میں پاے جانے والے تقریباً ۱۲ عناصر مثلا فاسفورس، سلفر، کلورین، پوٹاشیم، کیلشیم ، زنک، آئرن، ٹائیٹینیم ، نکل ، کاپر، یوریا، گلوکوز ، سٹریٹ ، فرکٹوس اور کچھ پروٹینز وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ زمین کے یہی عناصر جو اب خوراک کے زریعے نطفے کی شکل بنتے ہیں پہلے مرحلے میں بھی پانی کیساتھ ملکر طین لازب ( نطفے نما چپکتے کیچڑ) کی شکل اختیار کرگئے۔ جیسے اب جس انڈے کے اندر بچہ پیدا ہورہا ہو اس میں موجود سیال سڑانگ ( حما مسنون ) پکڑ جاتا ہے ویسے ہی مزکور نطفہ نما کیچڑ بھی سڑانگ سے گزرا۔ جیسے اب بیجوں یا انڈوں ( پیٹ سے پیدا ہونے کے علاوہ دو زرائع جو انسانی تخلیق کے ادوار سے پہلے وجود پزیر ہوچکے تھے) کے اپر کی تہہ فاخر ہ ( اکڑی ہوئ سخت) ہوتی ہے اسی طرح اس پہلے مرحلے میں انسانی تخلیق بھی اسی طرح صلصال کالفخار کے قشروں کے بیچ ہوی۔ چونکہ اس نوع میں تولیدی صلاحیت ( یعنی اپنی ہی نسل کو بڑھانے کا بیج ) نہیں تھا اسلئے آدم کے علاوہ باقی سب اپنی نسل کو بڑھاے بغیر ختم ہوگئ۔ 
دوسرے مرحلے کی مزید تفصیل ؛ 
قرآن نے مزید واضح کیا کہ دوسرے مرحلے سے پیدا ہونے والا انسان اب بھی ارتقائ تولیدی تخلیق کے مراحل سے ہی گزرتا ہے۔ زمین کے اجزاء سے نطفہ بننے تک کے مراحل ، پھر نطفہ کا نطفہ امشاج ( مرد و عورت کے نطفے کا ملاپ ) کے مراحل ، پھر عورت کے پیٹ کا موافق ماحول تک کا سفر کہ اس میں نطفہ قرار پکڑ سکے، پھر قرار پکڑنے کے بعد اسکا ایک معلق کیڑے/ جونک کی سی شکل میں بدل جانا، پھر اسکا گوشت کے لوتھڑے میں بدل جانے کے مراحل ، پھر اس میں ہڈیوں کو پھوٹ پڑنا، اور پھر اس پر کھال کے بننے کا عمل وغیرہ شروع ہونا ۔ ان سب مراحل میں سے ہر مرحلے کے لئے الگ الگ سے تخلیق کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے اور پھر بالاخر جو بچہ وجود پزیر ہوا اسکے لئے ثم انشانہ خلق آخر یعنی بالاخر ایک ممیز تخلیق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ ساری تدریج و تربیہ جو اب موجودہ طریقے سے ہوتی ہے پہلے مرحلے میں خدا نے اسے زمین کے کسی قبر نما پیٹ میں کیا۔

عموما خدا کے صفاتی ناموں میں اسکی ایک صفت “ رب” کو شامل نہیں کیا گیا ۔ لفظ رب کا معنی امام اصفہانی نے یونہہ بیان کیا ہے کہ الرب فی الاصل التربیہ و ھو انشاء حالا فحالا الی حد التمام، لفظ رب اصلا تربیہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال سے گزارتے ہوے آخری کمال کی حد تک پہنچا دینا ہے۔ تفسیر بیضاوی میں امام بیضاوی نے بھی اس لفظ کا معنی التربیہ بتا کر کہا ہے کہ وھی تبلیغ الشی الی کمالہ شئیا فشیا یعنی کسی شے کو مختلف حالات سے گزارتے ہوے درجہ بدرجہ اگلے مرحلے میں داخل کرتے جانا۔ اس سے واضع ہوا کہ خدا کی اس صفت کا مطلب ہی ارتقاء دینے والا ہے۔ اور اسے شائد باقی صفات سے اسلئے ممیز رکھا گیا ہے کہ خدا کی باقی صفات کے محاسن ہمارے سامنے صرف صفت ربوبیت کے زریعے ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن کی ابتداء ہی میں کہا گیا ہے کہ الحمد للّٰہ رب العالمین ، تمام صفاتی محاس خدا کے لئے خاص ہیں کیونکہ وہی ربوبیت کرنے والا ہے۔ 
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ قرآن انسانی تخلیق کو بھی دو ارتقائ ادوار میں بانٹ کر اسکی مزید ارتقاء ہی بتاتا ہے اگرچہ یہ ارتقاء ڈارون کی ارتقاء سے مختلف ہے مگر اسکے مقابلے میں انتہائ شاندار اور مبنی بر مشاہدہ ہونے کی وجہ سے وضاحت کے لئے مِسنگ لنکس کی کھوج کی محتاج بھی نظر نہیں آتی۔

کتاب تکوین باب ۲ میں مزکور ہے کہ؛ 
اور خدا نے آدم کو باغ عدن میں رکھا تاکہ وہ اسکی باغبانی اور نگرانی کرے۔ ۔۔۔ خدا وند نے کہا کہ آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں۔ میں ایک مددگار بناونگا جو اسکی مانند ہو۔ لیکن آدم کے لئے کوئ مددگار نہ ملا۔ تب خداوند نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور جب وہ سو رہا تھا تو اس نے اسکی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اسکی جگہ گوشت بھر دیا ۔ تب خداوند نے اس پسلی سے ایک عورت بنائ اور وہ اسے آدم کے پاس لے آیا۔ آدم نے کہا ، اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے ، وہ ناری کہلاے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئ تھی۔

جتنی اغلاط کی اصلاح قرآن نے کتاب تکوین کی کی ہے اتنی بلکہ اسکا عشر عشیر بھی شائد باقی سب کتابوں کی ملا کر بھی نہ کی ہو۔ مزکورہ بالا واقعہ کے مقابلے میں قرآن نے بتایا کہ تعلیم کی غرض سے ایک باغ میں سکونت کا حکم آدم و حواء دونوں کو دیا گیا تھا۔ یعنی حواء کی پیدائش کا مزکورہ بالا واقعہ جس باغ کا بتایا گیا ہے اس باغ میں جانے سے بھی پہلے میاں بیوی دونوں ہی موجود تھے ۔ وقلنا یادم اسکن انت و زوجک الجنہ ( اور پھر ہم نے کہا کہ اے آدم آپ اور آپکی بیوی اس بتاے ہوے باغ میں سکونت اختیار کرو)۔ لہذا تورات کا مزکورہ بالا واقعہ صحیح نہیں ہے۔

لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگرچہ آدم و حواء کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن بخاری کی روایت میں رسول اللہ کے ایک ارشاد کی روایت نقل ہوئ ہے کہ عورت مرد کی پسلی سے ہی بنی ہے لہذا اس سے موافقت کا رویہ اپنایا جاے ۔ اسلئے اس روایت سے بھی کسی نہ کسی طور پسلی والی بات کی تائید ہوتی ہے۔ 
اس روایت میں جو بات کہی جاری ہے وہ یہ ہے کہ عورت ہرگز مرد کی غلام یا اس سے کمتر نہیں کہ اس سے کمی کمین والا رویہ اختیار کیا جاے ۔ وہ اور مرد ایک ہی جنس سے ہونے کی وجہ سے یکساں واجب احترام ہیں ۔ عورت کا مرد سے طلاق لینے کا ایک بڑا سبب مرد کا عورت سے رویہ بن سکتا ہے اسلئے مرد اپنے روئیے کی اصلاح کریں ۔ یہ بات کہ مرد و عورت ہم جنس اور یکساں خود داری رکھتے ہیں اسکے لئے بتایا کہ عورت بھی مرد کی پسلیوں سے ہی بنتی ہے۔ یعنی وہ نطفہ جس سے مرد و عورت پیدا ہوتے ہیں وہ یخرج من بین الصلب والترائیب ۔ ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان سے وجود میں آتا ہے۔ مرد کے نطفے میں x اور y دونوں طرح کے کرومسومز ہوتے ہیں جبکہ عورت میں صرف x کا جوڑا ہوتا ہے۔ اسلئے لڑکا یا لڑکی پیدا ہونے کا دارومدار مرد کے نطفے پر منحصر ہوتا ہے۔ جیسے مرد کی مردانگی مرد کے نطفے سے وجود پزیر ہوتی ہے ویسے ہی عورت کے عورت ہونے کا فیصلہ بھی مرد کے بین الصلب والترائیب سے کیا جاتا ہے۔ اگر مرد کی پسلیوں میں اکڑ ہے تو عورت بھی اسی اکڑ سے ہی وجود پزیر ہوئ ہے۔ جیسے تم مرد ایک دوسرے کے دبانے کی کوشش میں اکڑ کا مظاہرہ کرتے ہو ویسے ہی جب عورت کو بھی دباو گے تو وہ بھی ایسے ہی اکڑ کا مظاہرہ کرے گی ۔

سنی ، شیعہ ، اباضی اور جدید معتزلہ کے مفسرین کی کتب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ سوال ہے جس کو لیکر متعارض آثار بھی پیدا ہوے۔ اس پوسٹ کی جانب میرا خیال لاادریت کے پیروکاروں کے ایک اعتراض سے پیدا ہوا۔ اس پوسٹ سے پیش نظر بھی صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ اعتراض صرف ان امور پر قائم کیا جاسکتا ہے جو قرآن نے صراحت سے بیان کردئے ہوں ۔ جو چیز صراحت سے بیان نہ ہوئ ہو اور اس پر پہلے سے ایک سے ذیادہ آراء پائ جاتی ہوں وہاں کوئ بھی اعتراض مذھب پر پیدا نہیں ہوتا بلکہ ذیادہ سے ذیادہ کسی تعبیر پر پیدا ہوتا ہے۔ اور جب تعبیریں پہلے سے ہی مختلف فیہ ہوں تو وہ سوال کوئ نیا سوال نہیں رہتا بلکہ پہلے سے اہل علم میں موجود سوال کا محض اعادہ ہوتا ہے۔ موضوع پیش نظر کے ضمن میں مسلمانوں میں جو آراء عموما پیدا ہوئیں وہ درج ذیل ہیں۔ 
(۱): ایک راے کچھ روایات کے تحت یہ ہے کہ حرمت کی اصل “ رحم مادر “ ہے۔ اس اصول کا اطلاق حالات کے تحت تدریجا ہوا۔ اسلئے ایک نسل تک کے لئے حرمت کو صرف ماں تک ہی محدود رکھا گیا لیکن جونہی پہلی نسل سے کزنز پیدا ہوگئے تو پھر خاندان کا ادارہ وجود میں لانے کے احکام نازل کرکے اس اصول کا مزید اطلاق کیا گیا۔ تاہم پہلی نسل میں بھی اس اصول کا ایک گونا اطلاق یونہہ خدا نے یونہہ قائم رکھا کہ حضرت آدم کو اولاد بیٹی اور بیٹوں کے جوڑے کی شکل میں دی۔ اسطرح جو جوڑا ایک ہی حمل میں رحم مادر کا اشتراک رکھتا تھا ان پر تو باہمی شادی پر پابندی رکھی لیکن جن دو جوڑوں کے مابین بعد زمانی تھا ( جیسے اب آدم کی نسل میں بعد زمانی موجود ہے) تو انکے لڑکوں اور لڑکیوں کی باہمی شادی کو ایک نسل کے لئے روا رکھا گیا۔ باقی آراء کے مقابلے میں یہ اکثریتی طبقہ اپنی دلیل سورہ نساء کی پہلی آیت سے لیتا ہے کہ وبث منھما رجالا کثیرا ونساء۔ اور دونوں سے ہی مرد و عورت کی کثرت پھیلی۔ 
(۲): دوسری راے یہ ہے کہ انسانوں میں روح پھونک کر خود شعوری و اخلاق پیدا کرنے سے پہلے ہی ان میں تولید کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا ۔ وبدا خلق الانسان من طین ثم جعل نسلہ من سللہ من ماء مھین۔ ثم سواہ و نفخ من روحہ میں “ ثم” ( فھو حرف عطف یدل علی الترتیب مع التراخی فی الزمن) واضح کررہا ہے کہ تسویہ و روح کا عمل تولید کے بعد ہوا جبکہ اخلاقی اصولوں کا التزام روح پھونکنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ یہ قرآن سے ہی مزید دلیل یونہہ دیتے ہیں کہ باغ والے واقعہ کے بعد کہا گیا کہ اب تمھاری جانب شریعت کے احکام آئیں گے اور جو بھی انکی اتباع کرے گا وہی آخرت کے خوف و حزن سے محفوظ رہے گا ( فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم ولا ھم یخزنون)۔ اس سے پہلے آدم و حواء کو ستر اور تولیدی مشاجرت کی ہی تعلیم اور تجربے کے لئے باغ میں سکونت اختیار کروائ گئ تھی۔ دونوں کو حکم دینے کا تخصیصی انداز “ انت و زوجک” بتاتا ہے کہ کسی جماعت میں سے خاص کرکے یہ حکم ان دونوں کو دیا جارہا ہے۔ اسی طرح جیسے باغ میں سکونت صرف ان دونوں کی کروائ جارہی ہے ویسے نکل جانے کا حکم ( فاخرجھما )بھی ان دونوں ہی کے لئے ہے۔ لیکن جب یہ پلٹ کر اسی جماعت میں آتے ہیں جہاں سے یہ الگ ہوکر باغ میں گئے تھے تو قرآن واضح کردیتا ہے کہ وہاں ایک جماعت موجود ہے جنھیں اب اس علاقے کو چھوڑ کر بکھرنا ہے یا کہیں اور جانا ہے۔ 
وقلنا اھبطوا منھا جمعیا، فاما یاتینکم منی ھدی فلا خوف علیھم ولا ھم یخزنون۔ 
اور پھر ہم نے حکم دے دیا کہ سب کے سب یہاں سے نکل جاو ۔ پھر جب تمھارے پاس میری ہدایت پہنچے گی تو جو شخص میری ہدایات پر عمل کرے گا وہی خوف و غم سے محفوظ رہے گا۔

انکے نزدیک بعضکم لبعض عدو کا مطلب یہ ہے کہ جہاں یہ جماعت موجود تھی وہاں ابھی معاشرت شروع نہ ہوئ تھی لیکن جب انھیں وہاں سے نکال کر کھیتی باڑی اور گلہ بانی وغیرہ کرکے ما تھے کے پسینے سے کمائ ہوی خوراک کے لئے تگ و دو کرنا تھی تو معاشرت کی وجہ سے جو حق تلفی اور تعدی شروع ہونی تھے یہ اسکی پیش خبری تھی۔ 
اس سوال کا جواب کہ اس واقعہ میں حضرت آدم ہی صرف خدائ مکالمے کے مرکز و محور نظر آتے ہیں وہ یہ دیتے ہیں کہ اسکی وجہ حضرت آدم کا اس جماعت کے لئے نبوت کے منصب پر چنا جانا ہے جیسا کہ سورہ آل عمران میں مزکور ہے کہ آدم کو بھی نوح کی طرح چنا گیا۔ اور جس ہدایت کے آنے کی خبر باغ والے واقعے کے بعد دی گئ ہے وہ انھی کے توسط سے آنی تھی۔ سورہ النساء کی پہلی آیت جسمیں کہا گیا ہے کہ وبث منھما رجالا کثیر و نساء کہ ان دونوں سے مرد و عورت کا پھیلاؤ ہوا کو وہ یونہہ واضح کرتے ہیں کہ یا تو وہ جماعت جو باغ والے واقعہ سے پہلے اور خیر و شر کا شعور پھونکنے سے پہلے موجود تھی وہ ساری کی ساری آدم و حواء کی ہی اولاد تھی جو خیر و شر کے شعور پھونکے جانے کے بعد اخلاقی احکام کی پابند بنی یا پھر اگر وہ انکی اولاد نہ بھی تھی تو بعد ازاں اللہ نے اسے آدم و نوح کے مابین آنے والے رسولوں کے ہاتھوں عذاب کا شکار کرکے انکی نسل کو باقی نہیں رہنے دیا اور صرف حضرت آدم کے بیٹے حضرت شیث کی اولاد ہی پھلی پھولی اسلئے ابن آدم کہلائ۔ 
(۳): ایک راے یہ ہے کہ حضرت آدم کی کوئ اولاد بھی خیر و شر کے احساس کی روح پھونکنے سے پہلے پیدا نہیں ہوئ۔ اسلئے انکی پہلی اولاد ہی شریعت کی پابند تھی ۔ اللہ نے انکی نسل کو بڑھانے کے لئے بہنوں اور بھائیوں کے مابین شادیوں کو بھی کبھی روا نہیں رکھا۔ تاہم جیسے حضرت مریم کے پاس اللہ نے اپنی روح بھیجی جس نے تسویہ شدہ بشر کا روپ دھارا ویسے ہی اللہ نے ملائکہ یا جنات میں سے کچھ کو معمور کیا کہ وہ انسانی روپ دھار کر پہلی لڑی کو دوسری میں بدلنے کا فریضہ بطور عورت کے سرانجام دیں ۔ اسی لئے نفس انسانی ہمیشہ مونث ہی ہوتی ہے۔ 
(۴): چوتھی راے کچھ جدید معتزلہ کی ہے کہ نفس واحد سے مراد پہلا امیبا ہے جو بیک وقت مزکر و مونث ہونے کی وجہ سے ایک سے دو اور پھر دو چار اور چار سے آٹھ میں ٹوٹتے اور ارتقائ منازل طے کرتے کرتے کیڑے سے بن مانس اور پھر بن مانس سے مانس کی شکل لیتے پہلی انسانی بستی کے وجود کا سبب بنا۔ اگر چہ جدید معتزلہ صوفیوں کے شدید ناقد ہیں لیکن قرآن فہمی میں الفاظ کی حقیقت و مجاز کی بحث میں انھی کے ہمنوا بھی ہیں اسلئے انکے نزدیک بھی قرآن مکمل طور کہیں حقیقی اور کہیں مجازی ہونے کی وجہ سے انکے ساتھ کھڑا ہے۔ 
(۵): ایک راے یہ ہے کہ اللہ نے بیک وقت بہت سے آدم و حواء پیدا کئے اسلئے سب ابن آدم کہلاتے ہیں ۔ یہ گروہ کیونکہ غالی قسم کے صوفیوں کا ہے اسلئے انکے نزدیک قرآن کی آیات کے ظاہری مطلب اور باطنی مطالب میں فرق ہوتا ہے اسلئے قرآن کی کوئ آیت انکے اس نظرے کے آڑے نہیں آتی ۔ ایک راے یہ بھی ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر ایک انسان نما مخلوق اور بھی تھی جو تولیدی عمل کے لئے انسان کے موافق تھی مگر بعد ازاں ختم کردی گئ۔ انکی عورتوں کو لونڈیاں بنا کر ان سے حضرت آدم کے بیٹوں کی پہلی نسل مکمل کی گئ ۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget