Articles by "رابعہ بخاری"

کچھ ہی دیر میں مکینک اس جگہ پر پہنچ گیا۔ دونوں اپنی اپنی ہی گاڑیوں میں بیٹھے انتظار کررہے تھے۔
مکینک کو دیکھ کر احمر فورا گاڑی سے باہر نکل آیا۔
شکر ہے اب اس عذاب سے چھٹکارہ ملے گا مجھے۔ احمر نے مکینک کو دیکھا تو سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا۔
پریشے گاڑی میں انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی۔
احمر نے مکینک کو دونوں گاڑیوں کا بتایا۔ اس نے دونوں کا معائنہ کیا۔
سر انکی گاڑی کا کافی نقصان ہوا ہے ٹائم لگے گا۔ آپکی گاڑی پیچھے سے ہی ڈیمیج ہوئی اس کا اتنا مسئلہ نہیں۔ آپ رات کو یہ کسی بھی ٹائم بھی گیراج میں پہنچا دینا میں پہلے آپکا کام ہی کر دونگا۔ مکینک نے معائنہ کرکے احمر کو تفصیل دیتے ہوئے کہا۔
اچھا تو اب اسکا کیا کرنا ہے؟ احمر ہمدان نے پریشے کی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
سر آپ اسے یہی چھوڑ جائے میں گیراج سے گاڑی منگوا لیتا ہو۔ مکینک نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
چلو بہتر ہے رکو دیتا ہو گاڑی کی چابی تمہیں اور جب یہ ٹھیک ہو جائے تو مجھے کال کر دینا۔ احمر نے کہا اور پریشے کی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ہیلو میڈم نکلو اپنے خوابوں کی دنیا سے۔ احمر نے گاڑی کا شیشہ بجاتے ہوئے کہا۔
لیکن پریشے بلکل بچوں کی طرح دونوں ٹانگیں اوپر کیے اور سیٹ کی پشت کے ساتھ سر لگائے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔
بس یہ سوتے ہوئی ہی اچھی لگتی ہے ورنہ کسی جنگلی بلی سے کم نہیں یہ کون اسے اسطرح دیکھ کہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جس نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ احمر نے پریشے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اٹھ جاؤ جنگلی بلی مجھے اور بھی بہت سے کام ہے۔ اب کی بار احمر نے زور دار طریقے سے شیشہ بجاتے ہوئے کہا۔
ہائے اللہ کیا ہو گیا کیا ہوگیا کہیں میں مرنے تو نہیں. لگی ہائے کہیں زلزلہ تو نہیں آگیا۔ پریشے نے زور دار آواز سنی اور گاڑی میں جھٹکا محسوس کیا تو گھبراتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
احمر نے پریشے کی حالت دیکھی تو زور دار قہقہ مارتا ہوا پیچھے کو ہوگیا۔
پریشے کو پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا لیکن پھر اپنے ہواس پر قابو کرتے ہوئے باہر نکلی اور احمر کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی۔
کیا مسئلہ ہے ہاں؟؟؟؟ پریشے نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
کچچ۔۔۔۔ کچچچھ نہیں۔ احمر اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔
پریشے نے احمر کی بےدھیانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پنچ پیٹ میں جھاڑ دیا۔
افففففففف لڑکی تم تو جنگلی بلی کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہو۔ احمر نے کڑاہتے ہوئے کہا۔
اب نکالو دانت بہت دانت نکلتے نہ۔ پریشے نے ایک اور پنچ مارنے کیلئے جیسے ہی ہاتھ اٹھایا تو احمر نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنی طرف کھینچا اور پریشے کے ہاتھوں کو پیچھے سے پکڑ لیا۔
آئندہ ایسی غلطی بھی مت کرنا۔ احمر نے پریشے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
پریشے کی آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھی۔
آپ گاڑی لے جائے چابی اسی میں ہی ہے میں اس جنگلی بلی کو پنجرے میں بند کرنے کیلئے لے کر جاتا ہو۔ احمر نے پریشے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
جنگلی کسے بولا۔ پریشے نے احمر کے پاؤں پر پاؤں مارنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔
اب کیا مطلب ہے تمہارا کہ ہر بار ہی تمہاری چال چلے گی۔ باز آؤ جنگلی بلی۔ احمر نے پریشے کے ہاتھوں کو چھوڑتے ہوئے کہا۔
میری گاڑی کہاں لے کر جارہے آپ؟ پریشے فورا اپنی گاڑی کی طرف مڑی۔
محترمہ یہ بہت زیادہ ڈیمیج ہوئی ہے اس لیے وہ لے کر جا رہا ہے آؤ میں تمہیں چھوڑ دیتا ہو پاگل خانے۔ احمر نے پاگل خانے کا لفظ منہ میں آہستگی سے بولا۔
میں تمہارے ساتھ۔ میں پریشے ساجد خان تمہارے ساتھ ۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا پریشے نے کہا اور کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
میں نے کوئی جوک کیا ہے جو دانت نکال رہی۔ احمر کو تپ سی چڑھ گئی۔
چلنا ہے چلو ورنہ بیٹھی رہو یہاں ہہہہہہہہ میں کونسا مرا جا رہا۔ احمر نے کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ہائے اب میں کیسے جاؤ گی ۔ میرے پاس تو کھلے پیسے بھی نہیں جب سے میری زندگی میں آیا یہ تب سے پریشانیاں میری بہن بن گئی ہے۔ پریشے نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
احمر اپنی گاڑی میں بیٹھا شیشے سے پریشے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
پریشے دونوں بازوؤں کو باندھے احمر کی گاڑی طرف دیکھ رہی تھی۔
احمر نے بھی اب گاڑی کا ہارن بجانا شروع کر دیا۔
پہلے پریشے نے اگنور کیا لیکن مسلسل ہارن سن کر تنگ آ چکی تھی۔
آگے بڑھی اور احمر کے ساتھ آگے جا کر بیٹھ گئی۔
چلو اب۔۔۔۔۔ پریشے نے گڑاتے ہوئے کہا۔
احمر نے ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی اور گاڑی سٹارٹ کردی۔
کھڑوس گھمنڈی جن۔ پریشے نے منہ میں بولا۔
کچھ کہا آپ نے میم جنگلی بلی۔ احمر ہمدان نے پریشے کی طرف بغیر دیکھے کہا۔
جی جی بلکل بھی نہیں آپ کو کھڑوس اور گھمنڈی جن نہیں کہا ۔ پریشے نے طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے کہا۔
احمر نے اسے گھورا تو پریشے نے دوسری طرف منہ کر لیا اور باہر کی طرف دیکھنے لگی۔
یہ بتاؤ تمہارا پاگل خانہ کہاں ہے جہاں صرف تم جیسے سوری تم تو اکیلی ہی عجیب جنگلی بلی ہو۔ کہاں ہے؟ احمر ہمدان نے طنزیہ کہا۔
جی جی جہاں آپکو رکھا جاتا نہ بلکل اس کے سامنے ۔ پریشے نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے کہا۔
نہیں تو نہ بتاؤ اترو میری گاڑی سے پھر۔ احمر نے گاڑی روکی اور پریشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
پریشے نے کاٹ کھانے کی نظروں سے احمر کو دیکھا جو کہ اطمینان سے مسکراہٹ سجائے پریشے کو دیکھ رہا تھا۔
خانز ہاؤس جانا مجھے ڈی ایچ اے بلاک B4۔ پریشے نے بے دھیانی سے بتایا۔
کیا؟؟؟؟؟ یہ نمونی میری کلونی میں رہتی ہے۔ احمر ہمدان نے حیرانگی سے پریشے کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
کچھ ہی دیر میں احمر نے خانز ہاؤس کے سامنے اپنی گاڑی روکی۔
پریشے بے دھیانی سے گاڑی سے اتری تو احمر نے پیچھے سے آواز دیا۔
اوہ۔۔۔۔ میم شکریہ بھی کہنا چاہیے۔ احمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
منہ نہ توڑ دو میری گاڑی خراب کردی جو۔ ہہہہہہہہہہ پریشے یہ کہہ کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا جنگلی بلی۔ احمر ہمدان نے کہا اور گاڑی چلا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے کو اندر کی طرف غصے میں آتے دیکھ کر شمائلہ بیگم نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
کیا ہوا پریشے اتنے غصے میں کیوں اور اتنی جلدی بھی؟؟؟؟ 
پریشے تیزی سے اوپر کی طرف بڑھ گئی۔
اس لڑکی کو کیا ہوا ہے؟؟؟ شمائلہ بیگم پریشانی سے سوچتے ہوئے بولی۔
اور پریشے کی پیچھے چل پڑی۔
پریشے نے دروازہ بند کردیا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی تاکہ اپنے غصے پر قابو کرسکے۔
پریشے بیٹا کیا ہوا بتاؤ مجھے۔ شمائلہ بیگم نے دو تین بار اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
پریشے نے منہ دھویا اور دروازہ کھول کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا؟؟؟ شمائلہ بیگم پریشے کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
وہ ماما میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا بس اس وجہ سے۔ پریشے نے آہستگی سے بولتے ہوئے بتایا۔
اللہ تم ٹھیک ہو نہ کچھ ہوا تو نہیں چوٹ تو نہیں. لگی۔ شمائلہ بیگم سن کر بہت پریشان ہوگئی اور پریشے کو دیکھنے لگی۔
نہیں ماما کچھ بھی نہیں ہوا گاڑی کو ہوا جس کی غلطی تھی وہ ٹھیک کروا کر دے گا۔ پریشے نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔
منع کرتی ہو نہ کہ خود ڈرائیونگ نہ کیا کروں آج سے بند آئی سمجھ۔ شمائلہ بیگم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
ماما میری غلطی نہیں جس کی تھی اسے کہے اور پلیز پاپا کو نہ بتانا وہ پریشان ہونگے۔ پریشے نے التجائی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
ہممم اچھا۔ کچھ کھانا ہے ۔ شمائلہ بیگم نے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا۔
ہاں فریش جوس پلیز تھک گئی ہو آرام کرو گی۔ پریشے نے شمائلہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا ٹھیک میں بھیجتی ہو تم آرام کرو۔ شمائلہ بیگم نے کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
پریشے الٹے منہ بیڈ پر لیٹ گئی اور احمر کے بارے میں سوچنے لگی۔

افففففففف تھک گئی آج تو میں اب گھر چلنا لاہیے۔ پریشے تھکن کی وجہ سے نیچے جھکتے ہوئے بولی۔ اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ساجد صاحب کی طرف بڑھنے لگی۔
بابا چلو چلے بہت تھک گئی میں اب پھر کل آئے گے۔ پریشے نے لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے کہا۔
ہاں بیٹا ٹھیک ہے لیکن پہلے ان سے ملوں یہ ہے مسٹر سلطان ہمدان صاحب جن کے ساتھ ہم اپنا الگ پراجیکٹ کررہے ہیں۔ اور سلطان صاحب یہ ہے میری بیٹی پریشے لیکن میرے لیے میری پری ہے یہ۔ لیٹل اینجل۔ ساجد صاحب نے پریشے کو آپنے ساتھ لگایا اور ان کا آپس میں تعارف کروایا۔
السلام علیکم انکل کیسے ہیں آپ؟ پریشے سلطان صاحب کی طرف بڑھج اور پیار کیلئے سر آگے جھکایا۔
وعلیکم سلام۔ میں بلکل ٹھیک آپ سناؤ ؟؟ سلطان صاحب نے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا۔
مل کر بہت خوشی ہوئی آپ سے سلطان انکل۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بہت پیاری بچی ہے آپکی بلکل ٹھیک کہا پری ہے یہ۔ سلطان صاحب نے پریشے کے گالوں کو چھوتے ہوئے کہا۔
انکل آپ بھی بلکل راجیش کھنہ جیسی پرسنیلیٹی رکھتےہیں۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ساجد صاحب اور سلطان صاحب نے سنا تو دونوں نے زور دار قہقہ مارا۔
اچھا اب کب ملے گی یہ پری جس کی وجہ سے آج میں بہت ہنسا۔ سلطان صاحب نے پریشے کے گالوں کو کھنچتے ہوئے کہا۔
انشاء اللہ کل۔ آپ آئے گے نہ انکل؟؟؟ پریشے نے بچوں کی طرح پوچھتے ہوئے کہا۔
ہاں بیٹا ضرور اب تو روز آؤ گا۔ سلطان صاحب نے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
تو پھر ٹھیک آپ بھی کل سے جاگنگ ڈریس پہن کر آنا ہلکی ہلکی واک مل کر کرے گے اور ڈھیر ساری باتیں بھی۔ پریشے نے دونوں ہاتھوں کو ملاتے ہوئے کہا۔
جی ضرور بیٹا۔ سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے آگے کہا۔
اچھا پھر چلتے ہیں ہم امید ہے اچھا وقت گزرا ہمارا ساتھ اور اب تو ملاقاتیں تو ہوتی رہے گی۔ ساجد صاحب نے سلطان صاحب سے مصاحفہ کرتے ہوئے کہا۔
ہاں بہت اچھا گزرا اور میں کل بھی ضرور آؤ گا۔ سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھا انکل کل ملتے پھر فی ایمان اللہ۔ پریشے نے کہا اور ساجد صاحب کے ساتھ کار پارکنگ کی طرف بڑھ گئی۔
سلطان صاحب پریشے کی طرف دیکھتے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔
بہت ہی پیاری بچی ہیں کچھ ہی لمحے میں مجھے مسکرانا سیکھا گئی۔ کاش احمر بھی اس سے مل لیتا۔۔۔ ابھی سلطان صاحب یہ سوچتے ہوئے مسکرا ہی رہے تھے کہ احمر ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
کیا ہوا دادا جان بہت خوش لگ رہے آپ تو۔ احمر ہمدان نے سلطان صاحب کو مسکراتے دیکھا تو وجہ پوچھی۔
بس بیٹا ایک پری تھی معصوم سی وہ چلبلی سی حرکتیں کر رہی تھی اسے دیکھ کر ابھی تک مسکرا رہا ہو۔ سلطان صاحب نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
واہ ہمیں بھی اس پری سے ملوا دیتے تاکہ ہم بھی اس سے وہ طریقہ پوچھ لیتے جس سے آپ ہر وقت خوش رہتے۔ احمر ہمدان نے پانی بوتل پکڑتے ہوئے کہا 
کاش۔۔۔۔۔۔ سلطان صاحب نے کہا اور پھر چل پڑے۔
احمر نے سلطان صاحب کو گاڑی میں بٹھایا اور گھر کا رخ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا میں جارہی فریش ہونے آپ بھی ہو کر آؤ اور پھر مل کر ناشتہ کرتے ٹھیک ہے۔ پریشے نے ساجد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ 
ہاں ٹھیک ہے جلدی آنا۔ ساجد صاحب نے کہا اور پھر دونوں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
تھک گئی آج۔ پریشے نے جوگرز اتارتے ہوئے کہا اور بیڈ پر گرتے ہوئے انداز سے لیٹ گئی۔
آنکھیں بند کی تو پھر سے احمر ہمدان نظر کے سامنے آیا۔
پریشے فورا اٹھ کر بیٹھ گئی۔
یہ کھڑوس مکھی چوس نکچڑا میری آنکھوں میں بھی پہنچ گیا سمجھتا کیا ہے یہ خود کو۔ اب ملے تو صیحح ایسا مزہ چکھاؤ گی یاد رکھے گا۔ پریشے نے شیطانی انداز سے کہا اور اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔
کچھ ہی دیر بعد شمائلہ بیگم نے پریشے کو ناشتے کے لیے آواز دی تو فورا بھاگتی ہوئی نیچے آگئی۔
السلام علیکم سب کو امید ہے ٹھیک ٹھاک ہونگے سب۔ پریشے نے ڈائیلاگ بازی کرتے ہوئے کہا اور کرسی پر براجمان ہوگئی۔
وعلیکم سلام۔ ٹھیک سے ناشتہ کرنا اپنی لندن کی عادتیں وہی چھوڑ کر آنی تھی۔ شمائلہ بیگم نے پری کو ناشتہ دیتے ہوئے کہا۔
ہاں ماما انکو اپنے جیسا بنا آئی ہو۔ پری نے شرارتی انداز سے کہا۔
اچھا بیٹا آگے کیا پلین ہے اب؟ ساجد صاحب نے سنجیدگی سے پری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
دوست پہلے سنجیدگی غائب کرو پھر بتاؤ گی۔ پریشے نے ساجد صاحب کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا کیا لڑکی ہے یہ قسمیں سیریس نہیں ہونے دیتی۔ ساجد صاحب نے قہقہ مارتے ہوئے کہا۔
اچھا سوچ رہی ہو دو تین دن گھوموں ذرا دیکھو کیا چینجمنٹ آئی ہے اس شہر میں اس کے بعد اپکے ساتھ آفس۔ پریشے نے نوالہ منہں میں ڈالتے ہوئے کہا۔
ہاں چلو ٹھیک لیکن دو تین دن بس اس سے زیادہ نہیں۔ ساجد صاحب نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
میں تو کہتی ہو اسے گھر بٹھائے گھر داری سیکھاؤ اسے میں آگلے گھر جا کر کیا کرے گی یہ؟؟۔ ناک ہی کٹوائے گی سسرال میں ہماری۔ شمائلہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔
پری نے سنا تو منہ بناتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ 
کدھر چلی ناشتہ تو کرو پورا۔ ساجد صاحب نے پری کو روکتے ہوئے کہا۔
کرلیا ناشتہ بابا، ماما تو بس مجھے بھیجنا چاہتی۔ پریشے کی آنکھوں میں آنسوں اگئے۔
رولا دیا نہ میری بیٹی کو تم نے بیگم۔ ساجد صاحب اٹھے اور پری کو گلے لگا لیا۔
اچھا نہ اب نہیں کہتی بس رونا نہیں چپ اور آرام سے ناشتہ کروں شمائلہ بیگم نے پریشے کی گالوں کو چھوتے ہوئے کہا۔
پری دوبارہ بیٹھ گئی اور ناشتہ کرنے لگ گئی۔
اچھا میرا تو ہوگیا ناشتہ اب میں جاتا ہو اچھا شمائلہ بیگم پری شام کو ملتے دھیان رکھنا۔ ساجد صاحب دونوں کو گلے لگے اور باہر کی طرف چل پڑے۔
اچھا ماما میں جارہی روم میں. کچھ دیر میں جاؤ گی باہر آپ بھی چلنا میرے ساتھ۔ پریشے نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
شمائلہ بیگم ملازم کے ساتھ مل کر برتن سمیٹھنے لگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر اور سلطان صاحب دونوں گھر پہنچ کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تاکہ فریش ہو سکے۔
احمر فریش ہو کر شیشے کے سامنے کھڑا خود کا معائنہ کررہا تھا جب اسے اچانک پریشے کا عکس شیشے میں نظر آیا۔
یہ کیا؟؟؟؟؟ احمر نے عکس دیکھا تو فورا اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں وہ یہاں تو نہیں. آگئی۔ 
لیکن جب پیچھے کسی کو نہ پایا تو اپنی سر پر خود ہی ہلکی سی تھپکی دی اور بولا۔
پتہ نہیں کیا ہوگیا مجھے وہ یہاں کیسے آ سکتی۔ چڑیل کہیں کی۔ احمر ہمدان نے شیشے کی طرف دیکھ کر برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
وآپس اس تصویر کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
کیسا لگ رہا ہو میں بتاؤ۔ لگ رہا نہ ڈیشنگ۔ احمر ہمدان یہ کہتے ہوئے مسکرآ رہا تھا۔ وآپس پیچھے کی طرف ہوا اور ناشتہ کرنے کیلئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
احمر ڈائینگ ٹیبل پر گیا تو سلطان ہمدان ابھی تک نہیں آئے تھے۔
احمر نے کرسی کھنچی اور بیٹھ کر انکا انتظار کرنے لگ گیا۔
کچھ ہی دیر میں سلطان صاحب بھی ٹیبل پر اگئے اور پھر دونوں نے ناشتہ کرنا شروع کردیا۔
اچھا اب کیا ارادہ ہے تمہارا برخودار۔؟؟؟ سلطان صاحب نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں دادا جان بس اپکے ساتھ آفس۔ احمر نے ناشتہ کی طرف توجہ دیتے ہوئے کہا۔
اور شادی کے بارے میں کیا سوچا؟؟؟ سلطان صاحب اب اپنی اصل بات پر اگئے تھے۔
جو آپ بہتر سمجھے۔ احمر نے اوپر دیکھے بناء کہا۔
ہممممممم بہت خوب۔ اب میرے ساتھ جاؤ گے آفس کیا؟ سلطان صاحب نے پھر سے سوال کیا۔
نہیں دادا جان آپ چلے میں اپکے پیچھے پیچھے آجاؤ گا کچھ امپورٹینٹ کال کرنی ہے آپ لیٹ ہو جائے گے۔ احمر ہمدان نے سلطان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہممم ٹھیک۔ جاؤ ڈرائیود سے کہوں گاڑی نکالے۔ سلطان صاحب نے ایک ملازم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ. فورا کھڑے پاؤں باہر کی طرف نکل گیا۔
چلو پھر ہوتی ہے ملاقات آفس میں۔ سلطان صاحب نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
جی دادا جان۔ احمر نے کہا اور وہ بھی ان کے ساتھ باہر کو آگیا۔
سلطان صاحب کے جانے کے بعد احمر نے لندن میں کچھ کالز کی اور پھر وہ بھی آفس کیلئے نکل پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما میں کچھ سامان لینے جارہی ہوں پاس مارکیٹ میں اپنے کچھ منگوانا تو بتائیں۔ پریشے نے لاؤن میں آتے ہوئے کہا۔
نہیں مجھے کچھ میں منگوانا۔ شمائلہ بیگم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
اچھا کب تک آؤ گی؟؟؟ شمائلہ بیگم نے پیچھے سے آواز دی۔
ماما دوگھنٹے تک۔ پریشے نے جواب دیا اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
ابھی راستے میں ہی تھی کہ کوئی گاڑی اچانک اس کی گاڑی کے سامنے آگئی جس کی وجہ سے دونوں گاڑیوں کی آپس میں ٹکر ہوگئی۔
پریشے کو زور کا جھٹکا لگا لیکن خوشقسمتی سے وہ محفوظ رہی۔
ڈر کی وجہ سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہمت کرکے وہ باہر نکلی تو دیکھا اس کی گاڑی کا فرنٹ بونٹ بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔
پریشے ابھی اپنی گاڑی کو دیکھ ہی رہی تھی کہ کوئی پیچھے سے بولا۔
آپکو گاڑی چلانے نہیں آتی کیا ؟؟؟؟ دیکھ نہیں سکتی تھی۔ 
پریشے نے غصے سے پیچھے منہ کیا تو اس کے بال پیچھے کھڑے شخص کے منہ پر جا لگے۔
پریشے نے اپنے بال صیحح کیے تو دیکھا کہ یہ وہی شخص تھا جسکی وجہ سے اس کی فلائیٹ خراب ہوئی اور صبح بھی اس کی وجہ سے گری۔
دونوں نے ایکدوسرے کو دیکھا تو اکھٹے بولے۔
تم؟؟؟؟؟ 
میرا پیچھا کر رہے نہ آپ؟؟ پریشے نے قدرے غصے سے کہا۔
آواز نیچے میں عادی نہیں ان چیزوں کا۔ احمر نے بھی اسی انداز سے کہا۔
میرا نقصان کردیا آپ نے بھرے اس نقصان کو اب۔ پریشے انگلی دیکھاتے ہوئے احمر کی طرف بڑھی۔
اور جو میرا نقصان ہوا وہ۔ احمر نے اس کی انگلی پکڑتے ہوئے کہا۔
اس کے ذمہ دار آپ خود ہے۔ پریشے اپنی انگلی چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
ہر چیز کا میں ہی ذمہ دار بن جاتا کیوں؟؟؟ احمر نے انگلی کو دباتے ہوئے کہا۔
آپکو شرم نہیں آتی ایک لڑکی کو تنگ کرتے ہوئے چھوڑے میری انگلی ابھی۔ پریشے نے وارن کرتے ہوئے کہا۔
نہیں تو کیا؟؟؟؟ میرا نقصان بڑھو اور جاؤ۔ احمر نے شرط رکھتے ہوئے کہا۔
جی نہیں........ پریشے چلا کر بولی۔
پھر یہ انگلی میرے ہاتھ میں ہی ٹوٹے گی۔ احمر ہمدان نے طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے کہا۔
پریشے نے سنا تو اپنی ہیل احمر کے بوٹ پر ماری۔
احمر ہمدان تکلیف کی وجہ سے چلا اٹھا اور درد کی شدت کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے پریشے کی انگلی چھوٹ گئی۔
پریشے اپنی انگلی کو دبانے لگ گئی۔
احمر کو اب غصہ آ رہا تھا۔ اس نے پریشے کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
سمجھتی کیا ہو تم خود کو ہاں؟؟؟؟ احمر غصے سے بولا۔
جو بھی سمجھو آپکو کوئی حق نہیں مجھ سے ایسے بات کریں۔ پریشے نے کہا اور احمر کو دھکا دیا۔
میری گاڑی ٹھیک کروائے ابھی۔ اب کی بار پریشے بھی غصے سے بولی۔
احمر پاؤں پٹختا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا اپنا فون اٹھایا اور کار ریپئرنگ کرنے والے کو بلایا۔
پریشے نے دیکھا تو اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی اور انتظار کرنے لگی۔
جنگلی بلی ٬ چڑیل۔ احمر ہمدان منہ میں پریشے کو دیکھ کر بڑبڑایا۔
کھڑوس مکھی چوس اکڑو بندر کہیں کا ہہہہہہہہ پریشے بھی اسکی طرف دیکھ کر آہستگی سے بولی۔

السلام علیکم دادا جان۔ احمر ہمدان کھانے کی میز پر آیا جہاں پہلے سے ہی سلطان ہمدان اس کا انتظار کررہے تھے۔
وعلیکم سلام۔ کیا لڑکے ہماری سکھائی ہوئی تمیز بھول چکے ہو تم؟۔ سلطان ہمدان نے احمر ہمدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں دادا جان۔ احمر ہمدان شرمندہ ہوتے ہوئے آگے بڑھا اور سلطان ہمدان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیا۔
کیا حال ہے آپکا؟؟؟ احمر نے محبت بھری نظروں سے سلطان ہمدان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میں بلکل ٹھیک اب تم اگئے ہو نہ اب تو ایک نئ تازگی کا احساس ہورہا ہے۔ سلطان ہمدان نے احمر کے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا۔
جاؤ بیٹھو باقی باتیں کھانے کے بعد کرے گے۔ سلطان صاحب نے احمر کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا۔
احمر خاموشی سے اٹھا اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جا کر بیٹھ گیا۔
پیش کرے۔ سلطان صاحب نے ہاتھ کا اشارہ ملازموں کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
سب ان کے ایک اشارے پر دوڑتے آئے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا بہت دبدبا ہے۔ اور سب ان کے ایک اشارے پر چلتے ہیں۔
برخودار اب کب تک ارادہ ہے اس طرح تنہا زندگی گزارنے کا۔ سلطان صاحب نے کھانا کھاتے ہوئے بغیر احمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
احمر جو خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔ اس کا نوالہ ہاتھ میں ہی رک گیا۔ اور وہ حیرانگی سے سلطان صاحب کو دیکھنے لگا۔
میں کوئی ایسی بات نہیں کی کہ تم ہاتھ روک لوں کھانا کھاؤ اور جواب بھی دو۔ سلطان صاحب ابھی بھی بغیر احمر کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہے تھے جس کے چہرے سے ناگواری ظاہر ہورہی تھی۔
جب تک سانس ہے میری تب تک۔ احمر نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
ہممم مطلب جس طرح میں نے اکیلے پن میں زندگی گزاری ویسے ہی گزارنا چاہتے ہو۔ سلطان صاحب نے کھانا کھانا روک دیا اور سوالیہ نظروں سے احمر کو دیکھنے لگے۔
دادا جان بھوک بہت لگی اتنے عرصے بعد ایسا کھانا کھا رہا پھر کبھی بات کرے گے اس پر۔ احمر نے اپنی جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
ہممممممم کھانا کھاؤ اور میرے کمرے میں آؤ اس بار بات کا کوئی فیصلہ آج کر ہی لیتے۔ سلطان صاحب نے احمر کی بات سنی اور دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
جی بہتر دادا جان۔ احمر نے آہستگی سے کہا اور کھانا کھانے لگ گیا۔
کچھ ہی دیر میں کھانے سے فارغ ہو کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا اور اسی تصویر کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ اور سوچنے لگا کہ کیسے دادا جان کو سمجھایا جائے۔
بہت خوشی ہورہی نہ تمہیں میری بے بسی دیکھ کر لیکن میں بھی انہیں کا پوتا ہو۔ ایمورشنل بلیک میل نہیں ہونگا۔ سن لو تم بھی۔ احمر دیوانہ وار تصویر کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے سگار کی ڈبیہ نکالی اور پھر سگار جلا کر پھونکنے لگا۔
چھوٹے صاحب آپکو بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔ ملازم نے دروازہ کھلا دیکھا تو احمر ہمدان کی طرف دیکھ کر بولا۔
ہممممممم اچھا ۔ احمر نے ایک لمبا کش لیا اور سگار بجھا کر سیدھا سلطان صاحب کے کمرے کا رخ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر ہمدان کچھ دیر کیلئے دروازے کے باہر رکا اور پھر حوصلہ کرکے دروازے پر دستک دی۔
آجاؤ۔ احمر ہمدان نے ایک بھاری اور رعب دار آواز سنی تو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔
سلطان ہمدان اپنے بیٹے کی تصویر کے سامنے کھڑے نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
معلوم تمہیں احمر میں کتنا اکیلا ہوگیا تھا جب تمہارے باپ اور ماں کا انتقال ہوا تھا۔ میرا سہارا تھا وہ۔ پھر تم آئے امید اور مضبوط ہوئی کہ میرا نام لینے والا کوئی ہوگا جو میرا نام زندہ رکھے گا۔ خود کو سنبھالا صرف تمہارے لیے۔ سلطان ہمدان صرف احمر کے سامنے ہی کمزور پڑتے تھے انکی آواز بھی مدھم ہوگئی تھی۔
جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ان کا غم ابھی تک تازہ ہے اور ان کو مسلسل تکلیف دے رہا ہے۔
سلطان صاحب مڑے اور احمر کی طرف دیکھا جو سر جھکائے کھڑا تھا۔ سلطان ہمدان کو دیکھ کر فورا انکی طرف بڑھا اور انکا ہاتھ تھاما۔
احمر نے انکی حالت کو سمجھاتے ہوئے انہیں کرسی پر بٹھا دیا اور خود ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھوں کو آپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اپنے ہونٹ ان پر رکھ دیے۔
میں تمہیں بستا ہوا دیکھنا چاہتا ہو چاہے اس کو میرا حکم سمجھو یا میری آخری خوائش۔ سلطان صاحب نے نے احمر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
دادا جان بس بھی پلیز۔ احمر ہمدان جو کسی کے سامنے جھکتا نہیں تھا اپنے دادا کی بات سن کر تڑپا اٹھا تھا۔
مجھے دیکھو سب غم دفن کیے دل میں جی رہا ہو۔ ماضی کو بھول کر آگے بڑھو میرے بیٹا ورنہ زندگی بہت مشکل ہوجائے گی تمہارے۔ میں بھی بڑھا صرف تمہارے لیے اب تمہاری باری۔ سلطان صاحب یہ کہتے ہوئے اٹھے اور اپنے بیڈ کی طرف رخ کیا۔
جبکہ احمر ہمدان وہی بیٹھا اپنی سوچ میں گم کچھ سوچ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی پریشے ساجد صاحب کو لے کر باغ کی طرف بڑھ گئی۔
پتہ نہ بابا کتنی ضروری ہے ورزش آپ کے لیے ماما بتا رہی تھی آپ چھوڑ چکے تھے۔ میرے جانے کے بعد اب میں آگئی ہوں نہ تو اب روز میرے ساتھ آپ نے ورزش کرنے آنا ہے اچھا۔ پریشے نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
ہاں ٹھیک ہے پری۔ پہلے میں اکیلا تھا نہ اب تو تم آگئی ہو مل کر واک کرے گے۔ ساجد صاحب نے پریشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
چلے اب تیز تیز میں ایک راونڈ لگا کر آتی۔ چلے شاباش۔ پریشے نے کہا اور اور ہینڈ فری لگا کر تیزی سے جاگنگ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر ہمدان کل رات سے پریشان تھا جس کی وجہ سے وہ پوری رات سکون سے نہ سو سکا۔
احمر نے اپنا جاگنگ ڈریس پہنا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
چھوٹے صاحب کچھ چاہیے آپکو؟؟ ملازم نے دیکھا تو بھاگتا ہوا احمر ہمدان کے پاس آ کر بولا۔
دادا جان اٹھ گئے ہیں کیا؟ احمر نے ملازم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
جی وہ اٹھ گئے ہیں اور لاؤن میں ہی بیٹھے ہیں۔ ملازم نے جواب دیا۔
اچھا ڈرائیود سے کہوں میری گاڑی نکالے اور فریش جوس کی بوتل بھی گاڑی میں رکھ دوں۔ احمر نے کہا اور سیدھا لاؤن کا رخ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم دادا جان۔ احمر ہمدان نے سلطان صاحب کی طرف بڑھتے ہوئے کہا اور آگے بڑھتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیا۔
وعلیکم سلام صبح بخیر۔ کہاں چلے جناب۔ سلطان صاحب نے احمر ہمدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
دادا جان میں ہی نہیں آپ بھی۔ چلے باہر ذرا فریش ہو کر آتے گھر بیٹھ بیٹھ کر تھک جاتے ہونگے۔ احمر ہمدان نے سلطان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں تم جاؤ میں یہی ٹھیک۔ سلطان صاحب نے احمر ہمدان کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
نہیں آپ بھی چل رہے میرے ساتھ اٹھے۔ احمر ہمدان نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کھڑا ہوگیا۔
چلو جی چلو پوتے کی خوائش سر آنکھوں پر۔ سلطان صاحب اٹھے اور دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
کچھ ہی دیر میں دونوں باغ میں پہنچ گئے۔
احمر ہمدان نے گاڑی پارک کی اور سلطان صاحب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے انہیں اندر لے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا آپ تھک گئے ہو کیا۔ پریشے نے ساجد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں کافی ٹائم بعد کی نا جاگنگ اسلیے۔ ساجد صاحب نے پھولتی ہوئی سانس سے بڑی مشکل سے کہا۔
اچھا یہ لے پانی آپ یہاں بیٹھ جاؤ ذرا ریلیکس کرو میں دو اور چکر لگا کر آتی۔ پریشے نے کہا اور پھر سے جاگنگ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان آپ بیٹھے یہاں میں ذرا جاگنگ کر کے آیا ٹھیک ہے۔ احمر ہمدان نے سلطان صاحب کو بٹھاتے ہوئے کہا اور خود جاگنگ کرنا شروع کردی ۔
احمر کو جاگنگ کرتے ہوئے باہر سے ویڈیو کال آئی۔ تو وہ جاگنگ کے دوران رک گیا۔ اور ویڈیو کال پر بات کرنے لگ گیا۔
ابھی وہ بات کرہی رہا تھا۔ کہ اچانک کوئی اس کے پیچھے سے ٹکڑایا۔ 
احمر کو بھی زور کا جھٹکا لگا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی لڑکی نیچے گری ہوئی تھی اور وہ نیچے کی طرف دیکھ رہی تھی کہ کہیں اسے چوٹ تو نہیں لگی۔
احمر نے دیکھا تو فورا کال بند کی اور اپنا ہاتھ بڑھایا۔
جیسے ہی پریشے نے احمر کی طرف دیکھا تو فورا بولی۔
آپ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ احمر بھی پریشے کو دیکھ کر چونک گیا تھا اور فورا اپنا ہاتھ پیچھے کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجد صاحب اپنی سانس کو نارمل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ تبھی کسی نے انکی کمر پر ہلکے ہاتھ سے تھپکی دینا شروع کی۔
جب ساجد صاحب نارمل ہوئے تو کسی نے انہیں پانی کی بوتل پکڑائی۔
ساجد صاحب نے پانی پیا اور پھر مڑ کر دیکھا۔
اب بہتر محسوس کررہے ہیں آپ کہ نہیں۔ سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی بہت بہت شکریہ۔ ساجد صاحب نے مسکرا کر جواب دیا۔
سلطان صاحب بھی ساجد صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔
ساجد صاحب نے جب سلطان صاحب کو دیکھا تو انہیں ایسا لگا کہ جیسے وہ انہیں جانتے ہو۔
سلطان صاحب بھی اسی کشمکش میں مبتلا تھے 
پھر اچانک ساجد صاحب کو یاد آیا اور بولے کیا آپ ہمدان انڈسٹری کے مالک ہے!!!
جی جی اور آپ خانز انڈسٹری کے مالک ہے نہ۔ سلطان صاحب نے یاد کرنے کے انداز میں کہا۔
ہاں ہاں ہم اس بار آپس میں ڈیل کر رہے ہیں اور ملے بھی تھے ہم ایک میٹنگ میں۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بلکل بجا فرمایا۔ سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ یہاں؟؟؟؟ ساجد صاحب نے سلطان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی میرا پوتا آیا ہے کافی عرصے بعد لندن سے تو اس نے ضد کی اور میں منع نہ کر سکا۔ سلطان صاحب نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
واہ ایک جیسی حالت میری بیٹی بھی باہر سے آئی ہے اور وہ بھی ضد کرکے مجھے یہاں لے آئی۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ تو بہت اچھا ہوا چلے مجھے بھی کوئی ساتھی مل گیا۔ سلطان صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اور سنائے کیا حال ہے آپکا؟؟؟ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
اسطرح دونوں کے درمیان گفتگو کا آغاز ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں کیا کررہی ہو؟؟؟؟ احمر ہمدان نے آنکھ کی آئی برو اچکا کر کہا۔
کیوں جی اپکا باغ ہے یہ۔ پریشے نے خود کو اٹھایا اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے سامنے کھڑی ہو کر بولی۔
ایسا نہیں کہا میں؟ احمر ہمدان پریشے کے تیور دیکھ کر بولا۔
کہہ بھی نہیں سکتے اور پیچھے ہو آپکو پتہ نہیں یہ ویڈیو کال کرنے کی جگہ نہیں۔ پریشے نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔
تو تم اندھی تھی میرا چہرہ اس طرف تھا تم تو دیکھ سکتی تھی نہ احمر ہمدان نے اکڑتے ہوئے کہا۔
اوئے مسٹر لیمٹ ہاں۔ پریشے نے انگلی دیکھتے ہوئے کہا۔
نہیں تو کیا ہاں پتہ نہیں تمہیں گھر والے کیسے برداشت کرتے ہیں؟؟ احمر ہمدان نے طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے کہا۔
ہاں میں بھی اپکے بارے میں یہی رائے رکھتی ہوں۔ کھڑوس مکھی چوس۔ پریشے نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے کہا۔
کیا کہا مجھے ؟؟؟احمر ہمدان نے غصے میں کہا۔
کیوں اب سنائی بھی کم دیتا ہے؟ پریشے نے طنزیہ مسکراہٹ دیتے ہوئے کہا۔
تمممممم۔۔۔۔۔ احمر ہمدان اتنا ہی کہہ سکا کہ پریشے نے کانوں میں ہینڈ فری لگائی اور اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
بد تمیز ہہہہہہہہہہ۔ احمر ہمدان نے کہا اور وہ بھی اپنے راستے کی طرف بڑھ گیا۔

دوست فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے میرا؟ کب سے کر رہی ہوں. پریشے نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
دوست بزی تھا میں میٹنگ میں پتہ نہ کتنا کام ہوتا۔ ساجد صاحب نے جواب دیا۔
پتہ نہ میں کتنا مس کرتی دوست آپکو۔ پریشے نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
اچھا نہ میری پیاری دوست یہ بتاؤ دھاوا کب بول رہی ہو پاکستان۔ ساجد صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔
ارے ہاں دوست یہی تو بتانا تھا۔ آج رات کی فلائیٹ ہے۔ پریشے نے خوشی سے کہا۔
واہ اور بتاؤ اب میں بابا بن جاؤ کیا۔؟ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں کیوں نہیں بابا۔ پتہ میں بڑا مس کرتی تھی۔ بس یہ گانے کا شوق نہ ہوتا تو میں آپکو کبھی وہاں اکیلا نہ چھوڑ کر آتی۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میری پری وآپس آرہی اس سے بڑی اور کیا خوشی ہونے میرا بچہ۔ بس جلدی جلدی آجا تیری اماں نے مجھے بہت پرہیز کروا رکھا۔ ساجد صاحب نے مایوسی سے کہا۔
ہاں تو ٹھیک کر رہی نہ وہ بابا۔ ورنہ آپ کہاں باز آتے۔ پریشے نے جواب دیا۔
کیا؟؟؟؟؟ دوست تم نے پارٹی بدل لی کیا؟؟؟؟ ساجد صاحب نے مایوسی سے کہا۔
نہیں دوست جان چلی جائے میں بس آپکی دوست۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بس کرو دوست کتنے ڈائیلاگ کرتی نہ تم۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھا دوست مجھے پیکنگ کرنی۔ اب ملتے ائیرپورٹ پر اور ہاں دوست ماما کو نہ بتانا کہ میں آرہی ہوں۔ میں خود سرپرائز دونگی۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں چلو ٹھیک ہے دھیان سے میرا بچہ میں انتظار کررہا۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھا لوو یو پاپا۔ پریشے نے فون پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
لوو یو ٹو میرا بچہ۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور کال بند کردی۔
(ساجد صاحب ایک جانےمانے بزنس مین تھے۔ جن کی بس ایک بیٹی جو بیٹی کم اور انکے تمام رشتوں کا مکسچر زیادہ تھی۔ کیونکہ ساجد خان بھی خود اکلوتے تھے۔ بچپن سے ان کو رشتوں کی کمی کا سامنا تھا۔ اپنی بیٹی کو اس احساس سے بچانے کیلئے ساجد صاحب نے شروع سے ہی اپنے ہی روپ میں پریشے کو ہر رشتہ دیا۔ اسی طرح پریشے بھی انہیں ہر طرح کی خوشی دیتی اور اپنی ہر چھوٹی سی چھوٹی بات ان کو بتاتی۔)
____________________
بس کچھ دیر میں ہی میں گھر ہونگی۔ ہائے کتنا مزہ آئے گا نہ۔ پریشے خود سے باتیں کرتے ہوئی اپنی سیٹ پر جا بیٹھی۔
افففففففف سکون مل گیا۔ بس اب جلدی پہنچ جاؤ میں۔ میری بیلٹ کہاں ہے؟ مل نہیں رہی۔ پریشے اپنی پلین سیٹ سے اٹھی اور سیٹ چیک کرنے لگی۔ اتنے میں اسے کسی نے پیچھے سے آواز دی۔
ایکسکیوز می۔؟؟؟؟
پریشے نے ان سنی کی اور ابھی بھی اپنی سیٹ پر دھیان دیے بیلٹ ڈھونڈ رہی تھی۔
میں آپ سے بات کر رہا ہو میم؟؟؟ کسی نے پریشے کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔ 
پریشے اچانک چونکی اور پیچھے منہ کر کے دیکھا۔
پریشے نے بے دھیانی سے کہا۔.Any problem???
احمر ہمدان نے اکڑتے ہوئے کہا۔.Yes I have. Here is my seat what are u doing here mam???
پریشے نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔. No its my seat.
. Check your ticket mam and get a side plzz I want to sit on my seat.
احمر ہمدان نے پریشے کو سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا اور اپنی سیٹ پر براجمان ہو گئے۔
اوئے یہ کیا بدتمیزی ہے؟ پریشے نے غصے میں کہا۔
آرام سے بیٹھ جائے میم اور اپنی ٹکٹ میں سیٹ نمبر دیکھے۔ احمر ہمدان نے بغیر دیکھے اپنا سامان رکھتے ہوئے کہا۔
ہہہہہہہہہ۔ پریشے نے احمر ہمدان کی طرف دیکھ کر کہا اور اپنی ٹکٹ پر سیٹ نمبر دیکھنے لگی۔
تو میم اگر دیکھ لی ہو تو بیٹھ جائے بس نہیں یہ کہ کھڑی ہو کر جائے گی۔ احمر ہمدان نے طنز کرتے ہوئے کہا۔
پریشے نے سنا تو آگ بگولہ سی ہوگئی۔ 
دیکھے مسٹر تمیز سے ٹھیک ہے میری غلطی تھی اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ فضول بولے۔ پریشے نے کہا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
اب چپ بولنا مت شور نہیں پسند مجھے۔ احمر ہمدان نے کہا اور طنزیہ مسکراہٹ دی۔
آپ۔۔۔۔۔۔ پریشے بس اتنا سا کہہ سکی اور منہ پھولا کر بیٹھ گئی۔
کھروس نہ ہو تو بس اب جلدی سے فلائیٹ لینڈ ہو جائے۔ پتہ نہیں یہ وقت کب ختم ہو۔ دکھنے میں تو ہے بہت پیارا لیکن ہے کیا اندر سے موگینبو۔ ہٹلر پتہ نہیں بے چاری اس کی بیوی کا کیا حال ہونا۔ پریشے نے احمر ہمدان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ نہیں ہے اب چلی گئی ہے۔ احمر ہمدان نے آنکھیں موندھ کر کہا۔
کیا؟؟؟؟؟؟ میں تو کچھ بولی بھی نہیں۔ پریشے نے حیرانگی سے احمر ہمدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کو کیسے پتہ چلا کہ میں اس کے بارے میں سوچا۔ پریشے منہ کھولے احمر ہمدان کو دیکھ رہی تھی جو ابھی بھی آنکھیں موندھ کر پر سکون انداز میں سیٹ کی پشت پر براجمان تھا۔
تم ایسے ہی دیکھو گی تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ کیا سوچ رہی ہوں۔ احمر ہمدان نے ایک بار پھر پریشے سے کہا۔ لیکن اس بار وہ بھی پریشے کو دیکھ رہا تھا۔
پریشے نے احمر ہمدان کی طرف دیکھا اور نروس ہوتے ہوئے دوسری طرف منہ کرلیا۔
ہائے لگتا یہ نجومی ہے کیسے جان رہا میں کیا سوچ رہی۔ پریشے نے دل ہی دل میں کہا۔
میں نجومی نہیں ہوں۔ احمر ہمدان کی آواز سن کر اب کی بار پریشے نے احمر ہمدان کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا۔ اور تہہ کیا کہ وہ اب کچھ نہیں سوچے گی۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی پریشے نے خاموشی توڑی۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایم سوری۔ پریشے نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔
اٹس اوکے۔ احمر ہمدان ابھی بھی اسی انداز میں بیٹھا تھا۔
آپ بھی کہے سوری۔ یہ کیا بات ہوئی؟ ۔ پریشے نے مکمل توجہ احمر ہمدان کی طرف کرتے ہوئے کہا۔
اچھا میں بھی سوری اب چپ پلیز۔۔۔۔ احمر ہمدان نے اکتاہٹ بھرے لہجے سے کہا۔
کھڑوس۔ پریشے نے آہستگی سے کہا۔
لیکن احمر ہمدان سن چکا تھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
پورا سفر احمر ہمدان اپنی ہی سوچ میں گم رہا جبکہ پریشے بہت مشکل سے چپ بیٹھی ہوئی تھی۔
پریشے سے جب ضبط نہ ہوا تو بولی۔
آپ بچپن سے ہی ایسے ہیں کیا؟ پریشے نے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کیوں اپکو مسئلہ کوئی۔ احمر ہمدان نے اکتاہٹ بھرے لہجے سے کہا۔
نہیں وہ نہ میں چپ نہیں رہ سکتی اور میں بہت بور ہورہی ہو اس لیے پوچھا۔ برا لگا تو سوری۔ پریشے نے مایوسی سے کہا۔
کچھ دیر تو احمر ہمدان چپ رہا پھر بولا۔
نہیں بچپن سے نہیں ہو۔ احمر ہمدان نے پریشے کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا۔۔۔۔ پریشے کا موڈ آف ہوگیا تھا۔
کچھ ہی دیر میں لیڈنگ ہوگئی۔
پریشے اپنی سیٹ سے اٹھی اور بولی۔ 
اچھا تو نہیں لیکن ٹھیک سفر رہا ۔ نائس ٹو میٹ یو سر۔ ایم پریشے۔ 
سیم ٹو یو۔ ایم احمر ہمدان۔ احمر نے فخریہ نام لیا۔
چلے ٹھیک پھر اللہ حافظ۔ پریشے نے کہا اور باہر کو چلی گئی۔
عجیب ہی لڑکی تھی سمجھ سے باہر ۔ احمر ہمدان نے پریشے کے جانے کے بعد کہا اور باہر کو ہوگیا
۔پریشے شاڑٹ فراک اور پٹھانی شلوار میں ایک گڑیا کی مانند لگ رہی تھی۔ چہرے پر چمک آنکھیں شرارت سے بھری اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ایک چلبلی لڑکی کی نشاندھی کررہی تھی۔
پریشے باہر آئی اور ساجد صاحب کا انتظار کرنے لگی۔ اتنے میں احمر ہمدان بھی اس کے پاس آ کر کھڑا ہوگیا۔
پریشے نے دیکھا تو بولی۔ 
آپ یہاں بھی۔ 
کیوں میں ائیرپورٹ سے باہر نہیں آ سکتا کیا۔ احمر ہمدان نے پریشے کو جواب دیا۔
نہیں ایسا بھی نہیں یہ پاکستان ہے جدھر مرضی پھرو۔ پریشے نے منہ بنا کر جواب دیا۔
اتنے میں احمر ہمدان کے سامنے ایک بلیک ہونڈا گاڑی آ کر رکی اور وہ بنا کچھ کہے اس میں بیٹھ گیا اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
پریشے بس اس کو دیکھتی رہ گئی۔
نیلا پینٹ کوٹ، وائیٹ شرٹ ہلکی سی شیو چہرے پر گہری سنجیدگی اور آنکھوں میں خالی پن سنیجیدگی کو ظاہر کر رہی تھی۔
کھڑوس انسان نک چڑھا۔ہہہہہہہ پریشے ابھی یہ بول رہی تھی کہ ساجد صاحب نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
پری۔۔۔۔۔۔ ساجد صاحب نے آواز دی تو پریشے بچوں کی طرح بھاگتی ہوئی ساجد صاحب کی طرف گئی اور گلے لگ گئی۔
بابا بہت مس کیا اپکو۔ پریشے کی آنکھوں میں. آنسوں اگئے۔
میں نے بھی پری کو بہت مس کیا ۔ ساجد صاحب نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
چلو دوست چلتے گھر ماما کو سرپرائز بھی تو دینا نہ۔ پریشے نے کہا اور اپنا بیگ پکڑ لیا۔ 
ہاں چلو چلے دوست آج مزے مزے کے کھانے کھائے گے ٹھیک ہے نہ۔ ساجد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں دوست پارٹی میری طرف سے آپکو صیحح ہے نہ چلو اب چلتے۔ پریشے ساجد صاحب نے ساتھ لگے گاڑی کی طرف بڑھ گئی اور گھر کی طرف رخ لیا
______________
بابا ماما کو بتایا تو نہیں نہ کہ میں آرہی ہو سچ سچ بتا دے۔ پریشے نے کنفرم کرتے ہوئے پوچھا۔
ہاں نہیں بتایا انکو نہیں پتہ کہ میں تمہیں لینے گیا تھا۔ ساجد صاحب نے پریشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا چلے اب آپکی بیوی کو سرپرائز دیا جائے۔ پریشے نے کہا اور گاڑی سے اتر گئی۔ 
ساجد صاحب بھی پریشے کے ساتھ اندر ایک شانداد بنگلے کی طرف بڑھے تو اندر مزے دار کھانے کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔
ارے واہ اتنے عرصے بعد مزے دار چٹ پٹے کھانوں کی مہک آ رہی پورے گھر سے۔ پری ورنہ تمہاری ماما نے پرہیزی کھانے کھلا کھلا کر ذائقہ ہی خراب کردیا تھا منہ کا۔ ساجد صاحب نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
بابا اب آ گئی نہ میں بس کوئی ٹینشن نہیں۔ پریشے ساجد صاحب کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے بولی۔
بابا لگتا ماما کیچن میں ہے آئے وہاں چلتے۔ پریشے نے کیچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور دونوں کیچن طرف بڑھ گئے۔
شمائلہ بیگم جو کہ اپنی ہی دھن میں مست کھانا بنا رہی تھی پریشے نے ملازمہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ 
جب وہ باہر چلے گئی تو پریشے کیچن میں داخل ہوئی اور شمائلہ بیگم کی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ لیے۔
شمائلہ بیگم کو معلوم نہ تھا کہ ان کے پیچھے کون ہے کیونکہ انہیں اندازہ بھی نہ تھا کہ پریشے پاکستان آ چکی ہیں۔
مانو یہ کیا حرکت ہے بیگم صاحبہ کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہیں پیچھے ہو مجھے کچھ نہیں دکھ دہا۔ شمائلہ بیگم سمجھ رہی تھی کہ شاید ان کی پرانی ملازمہ مانو جس کو پریشے نے باہر بھیجا تھا وہ ایسا کررہی ہے۔
لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ وہ نہیں ہے۔ 
پری۔۔۔۔۔۔۔ شمائلہ بیگم نے محسوس کرتے ہوا بے دھیانی سے نام لیا تو پریشے پیچھے سے ہی شمائلہ بیگم کے گلے لگ گئی۔
ارے آپکو کیسے پتہ کہ میں تھی۔ پریشے نے شمائلہ بیگم کی گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
شمائلہ بیگم کو یقین نہ آیا کہ یہ پریشے ہی ہیں. جو دو سال سے لندن میں گانا گانے کا ہنر سیکھ رہی ہیں۔
آگئی میری پری۔ کیسی ہے میری بیٹی۔ شمائلہ بیگم نے پریشے کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سامنے کرتے ہوئے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
میں تو بلکل ٹھیک ٹھاک لیکن آپ کمزور لگ رہی ہو کیوں جی۔ پریشے نے شمائلہ بیگم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
پری تمہاری ماما میرے ساتھ وہی پرہیزی کھانا جو کھاتی ہے۔ ساجد صاحب نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
آپ تو چپ رہے آتے ساتھ میری بیٹی سے میری شکایتیں کرنا شروع کردی ۔ شمائلہ بیگم نے ساجد صاحب کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔
اچھا یہ بتائیں مزے مزے کا کھانا کیوں بنایا کیا آپکو پتہ تھا کہ میں آنے والی ہو۔ پریشے نے شمائلہ بیگم کی گردن کے گرد اپنی بانہوں کا ہار بناتے ہوئے کہا۔
بہت یاد آرہی تھی مجھے اپنی پری کی تو اس لیے بنانے لگ گئی۔ شمائلہ بیگم نے ہانڈی میں چمچ ہلاتے ہوئے کہا۔
اچھا بتائیں اور کتنا ٹائم بہت بھوک لگی مجھے ماما۔ پریشے نے مزے مزے کے کھانے دیکھتے ہوئے کہا۔
بس ہوگیا جاؤ باہر میں لے کر آتی ہوں پھر مل کر کھاتے ہیں۔ شمائلہ بیگم نے پریشے کو پیار کرتے ہوئے کہا۔
اچھا ٹھیک ہے چلو دوست آؤ باہر چلتے بہت ساری باتیں کرنی مجھے آپ سے۔ پریشے نے ساجد صاحب کی بازو میں بازو ڈالی اور انہیں باہر لے گئی۔
کچھ ہی دیر میں شمائلہ بیگم نے ملازمہ کے ہمراہ ٹیبل کھانے سے سجا دیا۔
واہ رے اتنے عرصے بعد پاکستانی کھانے کی خوشبو۔ پریشے نے بچوں کی طرح خوشبو سونگھتے ہوئے کہا۔
ہاں نہ تو انتظار کس بات کا آجاؤ دوست دھاوا بولتے۔ ساجد صاحب نے کہا اور جیسے ہی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانے لگے پریشے نے ہاتھ روک کیا۔
دوست روکو۔ پریشے نے ساجد صاحب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
کیوں کیا ہوا؟؟؟؟ ساجد صاحب نے حیرانگی سے پریشے کی طرف دیکھا۔
بابا آپکو پتہ نہ اپکے علاوہ ہمارا کوئی اپنا نہیں۔ آپ ہی تو ہم دونوں کی مکمل دنیا ہو تو پلیز نہ بس آج ہی کل سے مکمل ڈائیٹ کرے گے پرومیس کریں۔ یہ کہتے ہوئے پریشے کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
پکا پرومیس آج بھی بس میری پری کے آنے پر اور سنو دوست رونا نہیں ورنہ میں بھی رو دونگا۔ ساجد صاحب نے پریشے کی سنجیدگی کو کم کرتے ہوئے گالوں پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
چلے ٹھیک پھر آئے دھاوا بولتے کھانے پر بہت مزے کا۔ پریشے نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں ہاں بیگم کس کی ہے۔ ساجد صاحب نے شمائلہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو دونوں کی محبت دیکھ کر ان دونوں کی لمبی زندگی اور خوشیوں کی دعائیں مانگتی رہی تھی۔
ماما بہت مزے کا شکریہ۔ پریشے نے ہاتھ کے سارے سے شمائلہ بیگم کی طرف دیکھ کر بوسہ دیا۔
موسٹ ویلکم۔ پری۔ شمائلہ بیگم نے تعریف سن کر کہا۔
کھانا کھانے سے فارغ ہو کر پریشے نے اپنا سارا سامان کھول لیا تاکہ شمائلہ بیگم اور ساجد صاحب کو ان کے تحفے دے سکے۔
دونوں تحفے دیکھ کر بہت خوش ہوئے لیکن سب سے زیادہ خوش وہ پریشے کے وآپس آنے پر تھے کیونکہ پریشے ہی ان کے گھر کی اکلوتی رونق تھی۔ اور دو سال تک دونوں نے خاموش زندگی گزاری تھی لیکن اب پھر سے ان کی زندگی رنگوں سے بھر گئی تھی۔ 
پریشے نے تحفے دیے اور دونوں کو شب خیر کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
آج بہت مستی کی تھک گئی افففففففف۔ پریشے نے بیڈ پر گرتے ہوئے کہا۔
ابھی آنکھیں بند ہی کی کہ اسے احمر ہمدان کی شکل نظر ائی۔ پریشے نے فورا آنکھیں کھول لی۔
افففففففف یہ کھڑوس مکھی چوس مجھے اچانک یاد کیسے آیا اللہ پورا سفر میرا خراب کردیا اس نے پتہ نہیں. اب کہاں اپنی کھڑوسیات جھاڑ رہا ہوگا۔ بس اللہ جی ایسا بندہ مجھے کبھی نہ ملے۔ پتہ نہیں کیسے لوگ گزرا کرتے ایسے لوگوں ساتھ میں تو کبھی نہ رہوں۔ پریشے نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا اور پھر سے سونے کی کوشش کی۔ کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی اور وہاں بھی اپنی مستی جاری رکھی ہوئی تھی
__________________
احمر ہمدان کی گاڑی تیز رفتاری کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں ایک عالیشان بنگلے کے سامنے آ کر رکی۔
تین چار ملازم بھاگتے ہوئے تیزی سے اس کی گاڑی کی طرف بڑھے۔
ایک نے دروازہ کھولا۔ تو احمر ہمدان تیزی سے باہر نکالا اپنا کوٹ ایک ملازم کو پکڑایا اور تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا۔ باقی ملازم اسکا سامان اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے تھے
ایسا کرو سارا سامان اور میرا کوٹ میرے کمرے میں جا کر رکھو۔ احمر ہمدان نے دو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تو وہ دونوں تیزی سے سامان لے کر کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
میرے آنے کی اطلاع دے دی تھی دادا جان کو کہ نہیں۔ احمر ہمدان نے اپنا مہنگا ترین فون کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک ملازم سے پوچھا۔
جی چھوٹے صاحب دے دی تھی اور وہ آپکا ہی انتظار کررہے ہیں۔ ملازم نے سر جھکا کر جواب دیا۔ 
اچھا ان سے کہوں کہ میں بس فریش ہو کر آیا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاؤں گا۔ احمر ہمدان نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
ملازم انکا پیغام لیے سلطان ہمدان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ 
___________________
ہاں آگیا ہے وہ۔ سلطان ہمدان نے اپنی رعب دار آواز میں ملازم کے داخل ہونے پر پوچھا۔
جی جناب ابھی آئے ہیں۔ ملازم نے جواب دیا۔
تو کیا وہ ہم سے ملنے نہیں آئے گا۔ سلطان ہمدان اپنی کرسی پر براجمان ہوئے باہر کا نظارا دیکھتے ہوئے بولے۔
جناب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فریش ہو کر آتے ہیں آپ سے ملنے اور آج کا کھانا بھی وہ آپ کے ساتھ کھائے گے۔ ملازم نے جواب دیا۔
بہتر ۔ باورچی سے کہوں آج سارا کھانا احمر کی پسند کا بنائے بہت عرصے بعد ہمارا پوتا پاکستان وآپس آیا ہے۔ روایتی کھانوں کا ذائقہ بھول چکا ہوگا۔ تو لذیذ روایتی کھانے بنائے۔ اب جاؤ۔ سلطان ہمدان نے اپنے رعب دار لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔
جی جناب ۔ ملازم نے کہا اور کمرے سے چلا گیا۔
سلطان ہمدان ابھی بھی اپنا رخ باہر کی طرف کیے بیٹھے تھے۔
( سلطان ہمدان،. ہمدان ہاؤس کے سربراہ جن کا کاروبار پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا۔ انکا بیٹا اور بہو پلین کریش ہونے پر ان سے ہمیشہ ہمیشہ سے جدا ہوگئے۔ خوش قسمتی سے احمر اپنے دادا دادی پاس ہی تھا۔ اور چھوٹی سی عمر میں ہی وہ اپنے والدین کے شفقت سے محروم ہو گیا۔ جب بارہ سال کا ہوا تو سلطان ہمدان کی بیگم اپنے بیٹے کی موت کے غم کو دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ تب سے لے کر اب تک پورا ایمپائیر اور احمر کی پرورش سب سلطان ہمدان نے ہی کی اور سنبھالا۔ اور ایک سخت خول خود پر چڑھا لیا جو انکے غم کو کسی کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا۔ سلطان ہمدان صرف ایک انسان کے سامنے کمزور تھا اور وہ احمر ہمدان تھا جو انکی جینے کی وجہ تھی اور آج وہ پانچ سال بعد وآپس آیا تھا تو سلطان ہمدان کے دل کی بےچینی کو سکون سا مل گیا تھا)
_____________________
احمر ہمدان اپنے کمرے میں داخل ہوا وہ کمرہ کم اور ایک شہزادے کا کمرہ زیادہ لگ رہا تھا۔ جہاں دنیا بھر کی ہر چیز موجود تھی جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ سنجیدگی بچپن سے نہ تھی۔ احمر ہمدان اپنے کمرے میں داخل ہو کر سب سے پہلے اپنے والدین کی تصویر کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ 
السلام علیکم ماما پاپا دیکھے آج میں آ ہی گیا۔ احمر ہمدان نے تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
احمر نے اپنے والدین کی تصویر بلکل اپنے بیڈ کے سامنےلگائی تھی تاکہ ہر صبح سب سے پہلے وہ انہیں دیکھے۔
احمر ہمدان پھر چل کر ایک اور تصویر کے سامنے جا کر کھڑا ہوا۔ 
بلآخر میں جتنا بھی بھاگ لوں سامنا مجھے کرنا ہی پڑنا ہے اور دیکھو میں سامنا کرنے کو تیار ہو اب۔ احمر ہمدان اس تصویر کو دیکھ کر بول رہا تھا۔
احمر ہمدان تصویر کو مسلسل دیکھ رہا تھا جیسے بس نہ چلے اور تصویر کے اندر موجود مجسمے کو باہر نکال کر سامنے کھڑا کر دے اور پھر اس سے شکوہ کرے۔
احمر نے جیب سے سگار کی ڈبیہ نکالی اور تصویر کو دیکھتے ہوئے سگار پھونکنے لگا۔
اتنے میں کسی نے دروازے کو دستک دی ۔ احمر ہمدان چونکا اور پھر اندر آنے کی اجازت دے دی۔
چھوٹے صاحب۔ بڑے صاحب اپکا انتظار کررہے ہیں ۔ جلدی تیار ہو کر آ جائے۔ ملازم نے احمر ہمدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اچھا آرہا ہو تم جاؤ۔ احمر ہمدان نے لاپرواہی سے کہا اور سگار کو بجھا کر واش روم کی طرف بڑھ گیا تاکہ فریش ہوسکے۔

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget