تازہ ترین اشاعتیں

مردانہ طاقت کو بڑھانا ہر تندرست اور نوجوان وبوڑھے کی خواہش ہوتی ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، ہمارے ہاں اس کمزوری پر بات کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بھی عام کمزوریوں کی طرح ایک جسمانی کمزوری ہے مگر سوال یہ پیدا ہرتا ہے کہ مردانہ طاقت کو بڑھایا کیسے جائے،۔پرانے وقتوں اور موجودہ دور میں بھی جس کے پاس کوئی ایسا نسخہ ہوتا ہے۔تو وہ اس کو صرف اپنے تک ہی محدود رکھتا ہے۔اور کسی کو بتانا گناہ سمجھتا ہے۔اور اسنسخے کو اپنے ساتھ قبر میں ہی لے جاتا ہے۔ایسے علم کا کیا فائدہ جو اللہ پاک کی مخلوق کا بھلا نہ کر سکے ذیل میں جو نسخہ بتایا جارہا ہے وہ ہے تو خوراکی نسخہ مگراس کا تعلق قدیم یونان سے ہے اور اس سے مردانہ طاقت کو چار گنا تک بڑھایا جاسکتا ہے۔اس نسخہ سے بدن کی طاقت اور پھرتی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔تھکاوٹ کا پتہ بھی نہیں چلتا ہر مزاج اور ہر عمر کے مرد اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر مرد بالغ ہوں ۔نابالغ اس کو استعمال نہ کریں۔

نسخہ تیار کرنے کی ترکیب

نرچھوہارا،  پنساری سے ملے گا 3عدد لے کر باریک کتر کر1پاو دودھ میں بھگو دیں۔تقریبا 12 گھنٹے لازمی بھگوئیں 12 گھنٹوں کے بعد اس کو گرائینڈر میں ڈال کر اچھی طرح یکجان کر لیں اور چولہے پرپکائیں اس میں دارجینی ثابت آدھا انچ ملا لیںجب دودھ اچھی طرح پک جائے تو چولہے سے اتار کر نارمل ٹھنڈا کر کے شہد ملا کر پی لیں۔ انشاللہ مردانہ طاقت 4گنا تک بڑھ جائے گی-

چند احتیاطیں

شوگر اور بلڈپریشروالے مریض ایک دفعہ پی کر چیک کریں کہ بلڈپریشر یا شوگر تو نہیں بڑھی، اسکے علاوہ چھوہارے اس دودھ میں ملائیں جو ایک دفعہ ابل کرٹھنڈا ہوگیا ہو کوشش کریں کہ اس کو ٹھنڈے موسم میں استعمال  کریں۔ مسلسل استعمال نہ کریں وقفہ دے کر استعمال کریں۔  اسکے علاوہ اس میں میوہ جات بھی شامل کر سکتے ہیں۔اگر بکری کا دودھ استعمال کریں گے تو ٹائمنگ میں بھی بہت اضافہ ہوگا۔ یاد رہے کہ چھوہارا صرف نرچھوہارا ہی لینا ہے۔اور کوئی نہیں۔

خاوند کو اپنی مردانہ طاقت کے لئے یہ پانچ گھریلو نسخہ لازمی کرنے چاہے خاوند کو اپنی مردانہ طاقت کے لئے یہ پانچ گھریلو نسخہ لازمی کرنے چاہے مردانہ طاقت بڑھانے کے پانچ بہترین نسخے 

نمبر ایک :دو دیسی انڈے کھانے کے بعد آدھا کلو دودھ پینا عادت بنا لیں کبھی مردانہ کمزوری نہیں ہوگی 
نمبر دو :گرم دودھ میں دو چمچ شہد ملا کر پینے سے جنسی کمزوری ختم ہوجاتی ہے اور تولیدی مادہ ھاڑہ ہوتا ہے
نمبر تین :نیم گرم دودھ میں زاعفران ملا کر پینے سے مردانہ طاقت بہترہوجاتی ہے 
نمبر چار :دس گرام سیسی گھی کے ساتھ ایک کیلا کھانے سے اور بعد میں دودھ پینے سے بھی مردانہ قوت میں اضافہ ہوتا ہے
نمبر پانچ :چھوارے دودھ میں ملاکر پینے سے جنسی کمزوری دور ہوتی ہے اور ٹائمنگ بہتر ہوتی جاتی ہے 


گیدڑ سنگھی

عوام میں گیدڑ سنگھی سے متعلق بے شمار غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں. کچھ لوگ اس کو گیدڑ کی ناف سمجھتے ہیں. کچھ لوگ اسے سر ایک بالوں کا گچھا سمجھتے ہیں. کچھ جوگی اس کو ایک ایسے گیدڑ کے سر پر نکلنے والا سینگ بتاتے ہیں جو کہ گلہری کے برابر ہوتا ہے اور پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے. جس کو تلاش کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں.

اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جس کے پاس ہو اس کی قسمت بدل جائے گی. اس کو ہر طرح سے مالی مدد حاصل ہوگی. زیورات یا نقدی کے سیف میں گیدڑ سنگھی رکھی جائے تو وہ مزید بڑھیں گے. دولت اور کاروبار میں ترقی ہوگی، گمشدہ مال مل جایا کرے گا. غیب سے ہر طرح کی مدد اور خوشحالی حاصل ہوگی، دولت آنے کے ہر ذریعے میں کامیابی ہوگی. لاٹری، بانڈ، جوا، سٹہ، کاروبار میں کامیابی ہوگی.

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ گیدڑ سنگھی کا تعلق ہندوستان سے ہے اور اسے ہندو تانترں نے دریافت یا ایجاد کیا لیکن ہمیں ہندو مذہب یا تاریخ کی کسی کتاب میں گیدڑ سنگھی کا ذکر نہیں ملتا. چونکہ اسے سیندور میں رکھا جاتا ہے اس لیے اس کا تعلق ہندؤوں سے جوڑ دیا گیا.

درحقیقت گیدڑ سنگھی کا ذکر ہمیں قدیم مصر میں ملتا ہے. قدیم مصر میں گیدڑ کو ایک انتہائی متبرک جانور سمجھا جاتا تھا. ان کے ایک دیوتا کا نام انوبس Anubis تھا جس کا سر گیدڑ جیسا اور باقی جسم انسان کا تھا. آپ نے اکثر قدیم مصر کے اہرام اور دوسرے قدیم عمارات کی دیواروں پر منقش شدہ تحاریر اور شبیہات میں اس دیوتا کی تصویر دیکھی ہوگی. اسی طرح قدیم مصریوں میں بلی کو بھی انتہائی مقدس جانور خیال کیا جاتا تھا.

مصری لوگ گیدڑ سنگھی نکال کر حنوط کر لیتے تھے اور پھر ایک خاص مرتبان میں رکھ کر اپنے خزانے میں رکھتے تھے. اسی طرح یہ رسم چلتی ہوئی ہندوستان اور تمام دنیا تک بھی پہنچی. زمانہ قدیم سے لوگ گیدڑ سنگھیاں حنوط کر لیتے تھے. راجہ مہاراجہ اور بادشاہ اسے اپنے خزانوں کے درمیان رکھتے تھے.

کہا جاتا ہے کہ جب گیدڑ سو سال کا ہو جاتا ہے تو اس کے سر پر سینگ اگ آتا ہے یا یہ کہ یہ سینگ صرف گیدڑوں کے سردار گیدڑ کے سر میں پایا جاتا ہے.

لوگ اس چیز کو بہت منتیں کر کے جوگیوں اور ملنگوں سے خریدتے ہیں اور خریدتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ یہ زندہ حالت میں ہو اور پھر بڑے پیار اور عزت سےاسے سیندور اور خوشبووں والی ایک چھوٹی سی ڈبی میں رکھتے ہیں. سیندور وہی سرخ رنگ کا پوڈر نما سفوف ہے جیسے ہندو پٙتی اپنی پتنی کی مانگ میں لگاتا ہے. سیندور ایک کیمیکل ہوتا ہے جو اسے کیڑے لگنے اور گلنے سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے.

لوگ اس گیدڑ سنگھی کا بہت خیال رکھتے ہیں اور پاک صاف ہو کر اس کے نزدیک جاتے اور اس کو ہاتھ میں پکڑتے ہیں کیونکہ جوگی صاحب نے انہیں بتایا ہوتا ہے کہ اگر ناپاک حالت میں اس کے قریب جاؤ گے تو یہ مر جائے گی یا اس وجہ سے آپ کا بہت بڑا نقصان ہو جاۓ گا.

اصل میں گیدڑ سنگھی واقعی گیدڑ کے سر (کھوپڑی) سے حاصل ہوتی ہے. یہ بلکل جلد کے نیچے موجود ہوتی ہے اور اسے اس کے سر سے کاٹ کر علیحدہ کر لیا جاتا ہے. اسی لئے اس چیز کے گرد بال بھی موجود ہوتے ہیں. گیدڑ سنگھی کینسر زدہ (tumer) سیلز ہیں جو کہ گیدڑوں کے سر میں ایک بڑے دانے کی طرح ابھر آتا ہے جس میں تھوڑی سی سختی بھی آجاتی ہے.

گیدڑ کے سر سے الگ ہونے کے باوجود اس کے بڑھنے کی 2 وجوہات ہو سکتی ہیں:

  1. پہلی وجہ یہ کہ کینسر والے سیلز اس سنگھی میں موجود ہوتے ہیں جو کہ ایک دوسرے کو کھا کر بڑھتے رہتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ گیدڑ سنگھی بڑھ رہی ہے.
  2. اس کے بڑھنے کی دوسری وجہ آکسیجن کی غیر موجودگی میں بیکٹیریا کی گروتھ کا جاری رہنا یا ان کی تعداد کا بڑھتے رہنا بھی ہو سکتا ہے. 
  3. یہ سب کینسر زدہ سیلز کو سندور میں حنوط کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے.


نوٹ: اگر کسی کے پاس اس کے سائز کے بڑھنے کی کوئی اور وجہ ہے تو ضرور بتائیے گا.

کچھ بھیک مانگنے والے جوگی اور سپیرے بھی لوگوں کو گیدڑ سنگھی کے نام پر چونا لگا جاتے ہیں. سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر گیدڑ سنگھی فائدہ مند ہوتی تو وہ خود خوشحال ہوتے اور دربدر بھیک نہ مانگ رہے ہوتے.

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget